بد
33 Misre
- کہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا
- زلف سیہ افعی نظر بد قلمی ہے
- ہے وہی بد مستی ہر ذرہ كا خود عذر خواہ
- تغافل بد گمانی بلکہ میری سخت جانی سے
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بد گمانی
- بد گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے
- دور چشم بد تری بزم طرب سے واہ واہ
- نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ بد گمانی شمع
- نہ جانوں کیونکہ مٹے طعن بد عہدی
- بہ رنگ سبزہ عزیزان بد زباں یک دست
- اتنا بھی اے فلک زدہ کیوں بد حواس ہے
- آئینہ بہ دست بت بد مست حنا ہے
- خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
- لکھی یاروں کی بد مستی نے میخانے کی پامالی
- بسکہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم
- ہمہ ناامیدی ہمہ بد گمانی
- کہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا
- کیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
- تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے
- نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں پر صحبت مخالف ہے
- بد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام
- عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
- خوب رویوں نے بنایا غالبؔ بد خو مجھے
- وہ بد خو اور میری داستان عشق طولانی
- ادھر وہ بد گمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہے
- کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
- ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا
- تکلف بر طرف ہے جاں ستاں تر لطف بد خویاں
- کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
- وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے
- چشم بد دور خسروانہ شکوہ
- خشم غصے اور بد خوئی کو جان
- تا مجھے پہنچائے کاہش بخت بد ہے گھات میں