بخشی
8 Misre
بہ حسرت گاہ ناز کشتۂ جاں بخشی خوباں
اسدؔ ہوں مست دریا بخشی ساقی کوثر کا
نہ بخشی فرصت یک شبنمستاں جلوۂ خور نے
مجھے انتعاش غم نے پئے عرض حال بخشی
تم نے مجھ کو جو آبرو بخشی
مجھے انتعاش غم نے پے عرض حال بخشی
بس کہ بخشی ہے فوج کو عزت
مسیح جس سے کرے اخذ فیض جاں بخشی
ب
All Letters