بحر
15 Misre
- وگر نہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- کہ در بحر کماں بالیدہ موج تیر ہے پیدا
- حباب بحر کے ہے آبلوں میں خار ماہی کا
- غریق بحر خوں تمثال در آئینہ رہتا ہے
- شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج
- غریق بحر خوں تمثال در آئینہ رہتا ہے
- سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے
- وگرنہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحر
- بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
- غریق بحر جویائے خس و خاشاک ساحل ہے
- ان کو لڑیاں نہ کہو بحر کی موجیں سمجھو
- ہے تو کشتی میں ولے بحر رواں ہے سہرا
- سلطان بر و بحر کے در کا ہوں میں غلام
- آب پانی بحر دریا نہر جو