بت
43 Misre
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- کہ صحرا فصل گل میں رشک ہے بت خانۂ چیں کا
- اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
- شرار سنگ بت بہر بناے اعتقاد آتش
- ہیں ورق گردانی نیرنگ یک بت خانہ ہم
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- کرتا ہے بیاد بت رنگیں دل مایوس
- تم ہو بت پھر تمہیں پندار خدائی کیوں ہے
- بت خانے میں اسدؔ بھی بندہ گاہ گاہے
- ہر بت خرشید طلعت آفتاب بام ہے
- تا چند ناز مسجد و بت خانہ کھینچیے
- نقش ناز بت طناز بآغوش رقیب
- ناخن انگشت بت خال لب بیمار ہے
- بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے
- اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا
- حسرت میں رہے ایک بت عربدہ جو کی
- غرض شست بت ناوک فگن کی آزمائش ہے
- کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
- روبرو کوئی بت آئنہ سیما نہ ہوا
- دکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں
- سر بہ پاۓ بت نا نہادہ رکھتے ہیں
- بت پرستی ہے بہار نقش بندی ہائے دہر
- آئینہ بہ دست بت بد مست حنا ہے
- شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
- ہیں ورق گردانیٔ نیرنگ یک بت خانہ ہم ہم
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیب
- دہان ہر بت پیغارہ جو زنجیر رسوائی
- کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
- کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز
- چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا
- گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
- ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں
- قبلہ و ابروے بت یک رہ خوابیدۂ شوق
- کعبہ و بت کدہ یک محمل خواب رنگیں
- رنگ عاشق کی طرح رونق بت خانۂ چیں
- بت کدہ بہر پرستش گری قبلۂ ناز
- تو کہے بت خانہ آزر کھلا
- اس بت مغرور کو کیا ہو کسی پر التفات
- وصل کی شب اے بت بے پیر آدھی رہ گئی