بال
67 Misre
- اختر کو داغ سایہ بال ہما کہوں
- رشتۂ پا شوخی بال نفس پیدا کرے
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- غنچۂ منقار گل ہو زیر بال
- خلوت بال و پر قمری میں وا کر راہ شوق
- ہے تہ بال پری بیضۂ بلبل ہنوز
- اشک ریزی عرض بال افشانی امید ہے
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
- رنگ گل آتش کدہ ہے زیر بال عندلیب
- بسمل ذوق پریدن ہے بہ بال عندلیب
- بال سمندر آئنۂ ناز ہے مجھے
- بہ بال شعلۂ بے تاب ہے پروانہ زار آتش
- عافیت سرمایۂ بال و پر نکشودہ ہے
- اے بال اضطراب کہاں تک فسردگی
- نے صبا بال پری نے شعلہ سامان جنوں
- نہاں در زیر بال آئینہ خانہ
- وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
- بہر جاں پروردن یعقوب بال چاک سے
- یک شرر بال دل و دیدہ چراغاں زدہ ہے
- بال طاؤس ہے رعنائی ضعف پرواز
- بال پری بہ شوخی موج صبا گرو
- تہ بال شمع حرم دیکھتے ہیں
- نامۂ شوق بہ بال پر بسمل باندھا
- بال پری بہ وحشت بے جا نہ کھینچیے
- پر پروا نگاں بال شرر ہے
- نمک زخم جگر بال فشانی مانگے
- ہر سبزۂ نوخاستہ یاں بال پری ہے
- بال کس گرمی سے سکھلاتا تھا سنبل کے تلے
- بال اگ جاتا ہے شیشے کا رگ گل کے تلے
- ورنہ صد گلزار ہے یک بال بلبل کے تلے
- یک بیاباں سایۂ بال ہما ہوجائیے
- یاں پر پرواز رنگ رفتہ بال تیر ہے
- غفلت بہ بال جوہر شمشیر پرفشاں
- شہپر رنگ سے ہے بال کشا موج شراب
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- سر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب
- نگاہ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
- ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- بارے اب اے ہوا ہوس بال و پر گئی
- میری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا
- بال تدرو جلوۂ موج شراب ہے
- تڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھا
- اختر کو داغ سایۂ بال ہما کہوں
- وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
- ہمارے صفحے پہ بال پری سے مسطر کھینچ
- نمک زخم جگر بال فشانی مانگے
- نامہ خود پیغام کو بال و پر پرواز ہے
- مثل دود مجمرہا داغ بال افشاں ہے
- بیضہ آسا ننگ بال و پر ہے یہ کنج قفس
- یک بیاباں سایۂ بال ہما ہو جائیے
- سر پر وبال سایۂ بال ہما نہ مانگ
- بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہو جائے گا
- مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج
- بال کشادہ ہے نگۂ آشنا مجھے
- تیری رفتار قلم جنبش بال جبریل
- اور بال پری ہے دامن زیں
- سینۂ سنگ پہ کھینچے ہے الف بال شرار
- وہ رہے مروحۂ بال پری سے بے زار
- یک بیاباں تپش بال شرر سے صحرا
- بال جبریل سے مسطر کش سطر زنہار
- بال رعنائی دم موجۂ گلبند قبا
- رفتن رنگ حنا ہے تپش بال شرار