باقی
26 Misre
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- مژہ پہلوے چشم اے جلوۂ ادراک باقی ہے
- ہوا وہ شعلہ داغ اور شوخی خاشاک باقی ہے
- عدم میں بہر فرق سرد مشت خاک باقی ہے
- سراپا شبنم آئیں یک نگاہ پاک باقی ہے
- ہنوز آفت نسب یک خندہ یعنی چاک باقی ہے
- بہار نیم رنگ آہ حسرت ناک باقی ہے
- مری محفل میں غالبؔ گردش افلاک باقی ہے
- دریاے مے ہے ساقی لیکن خمار باقی
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو عجب کیا
- ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- فقیری میں بھی باقی ہے شرارت نوجوانی کی
- دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
- ہنوز اک پرتو نقش خیال یار باقی ہے
- بجز پرواز شوق ناز کیا باقی رہا ہوگا
- ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
- ورنہ باقی ہے طاقت پرواز
- امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
- کف سیلاب باقی ہے بہ رنگ پنبہ روزن میں
- نشاں باقی نہیں ہے سلطنت کا
- باقی نہ رہے آتش سوزاں میں حرارت
- ابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ
- ہوس نہ رہ جائے کوئی باقی گناہ کیجے تو خوب کیجے