باغ
56 Misre
- باغ بخوں تپیدن و آب روان اشک
- رمیدن گل باغ واماندگی ہے
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- گربہ بزم باغ کھینچے نقش روے یار کو
- انتظار جلوہ کاکل میں ہر شمشاد باغ
- عکس گل ہاے سمن سے چشمہ ہاے باغ میں
- بلبلوں کو دور سے کرتا ہے منع بار باغ
- ہے زبان پاسباں خار سر دیوار باغ
- جنبش موج صبا ہے شوخی رفتار باغ
- مردم چشم تماشا نقطۂ پرکار باغ
- ہے دم سرد صبا سے گرمی بازار باغ
- نے زبان غنچہ گویا نے زبان خار باغ
- زیر مشق شعر ہے نقش از پئے احضار باغ
- باغ خاموشی دل سے سخن عشق اسدؔ
- بہار باغ پامال خرام جلوہ فرمایاں
- اے اسدؔ ہم خود اسیر رنگ و بوے باغ ہیں
- بیم طبع نازک خوباں سے وقت سیر باغ
- طوق قمری میں ہے سرد باغ ریحان سفال
- شب کہ وہ گل باغ میں تھا جلوہ فرما اے اسدؔ
- کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے واعظ
- خلد بھی باغ ہے خیر آب و ہوا اور سہی
- جلوۂ باغ ہے در پردہ ناسور ہنوز
- داغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہید
- سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا
- دل سے اٹھے ہے جو غبار گرد سواد باغ ہے
- کہ یہ گلزار باغ رہ گزر ہے
- بے لالہ عارضاں مجھے گلگشت باغ میں
- بس کہ خوباں باغ کو دیتے ہیں وقت مے شکست
- باغ خاموشیٔ دل سے سخن عشق اسدؔ
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- کیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے
- شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے
- داغ ہم دیگر ہیں اہل باغ گر گل ہو شہیدؔ
- ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
- اسدؔ ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
- گر باغ گدائے مے نہیں ہے
- بہ باغ رنگ ہائے رفتہ گل چین تماشا ہے
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
- کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاں
- یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
- باغ شگفتہ تیرا بساط نشاط دل
- ہے ابر پنبہ روزن دیوار باغ کا
- رام پور ایک بڑا باغ ہے از روے مثال
- جس طرح باغ میں ساون کی گھٹائیں برسیں
- صبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیں
- حبذا باغ ہمایون تقدس آثار
- باغ گویا نگارخانۂ چیں
- موج گل ڈھونڈھ بہ خلوت کدۂ غنچۂ باغ
- باغ معنی کی دکھاؤں گا بہار
- باغبانوں نے باغ جنت سے
- نو بر نخل باغ سلطاں ہو
- نسیم باغ سے پا در حنا نکلتی ہے
- وہ چراوے باغ میں میوہ جسے