بازو
7 Misre
پر افشاندہ در کنج قفس تعویز بازو ہے
کہ موم آئینہ تمثال کو تعویذ بازو تھا
اسدؔ گر نام دالاے علی تعویذ بازو ہو
تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
اسدؔ گر نام والائے علی تعویذ بازو ہو
نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
زور بازو میں مانتے ہیں تجھے
ب
All Letters