بازار
23 Misre
- ہے دم سرد صبا سے گرمی بازار باغ
- نفس تیری گلی میں خوں ہو اور بازار رنگیں ہے
- ڈرتا ہوں کوچہ گردی بازار عشق ہے
- بیباک ہوں از بس کہ بہ بازار محبت
- آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
- آتش مے سے بہار گرمیٔ بازار دوست
- یوسف گل جلوہ فرما ہے بہ بازار چمن
- چار سوئے دہر میں بازار غفلت گرم ہے
- کیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے
- اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
- سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال
- روز بازار جاں سپاری ہے
- گرم بازار فوجداری ہے
- کہ اس بازار میں ساغر متاع دست گرداں ہے
- لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
- ہوئی میری وہ گرمی بازار
- گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
- جنس بازار معاصی اسد اللہ اسدؔ
- ہر دو سوخانۂ زنجیر نگہ کا بازار
- چشمک ذرہ سے ہے گرم نگہ کا بازار
- پر طاؤس کرے گرم نگہ کا بازار
- تو یوسف سا حسیں بکنے سر بازار آتا ہے
- آج عالم اور ہے بازار کا