باز
23 Misre
- یاں فلاخن باز کس کا نالۂ بے باک ہے
- محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال
- مژگان باز ماندہ رگ خواب ہو گئی
- باز ماندن ہاے مژگاں ہے یک آغوش وداع
- طاؤس خاک حسن نظر باز ہے مجھے
- مژگان باز ماندہ سے دست دعا بلند
- جوں چشم باز ماندہ ہے ہر یک بسوے دل
- جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
- نگاہ فتنہ خرام و در دو عالم باز
- خانمان عاشقاں دکان آتش باز ہے
- برروئے شش جہت در آئینہ باز ہے
- محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال
- غریب ستم دیدۂ باز گشتن
- ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا
- ناخن پہ قرض اس گرہ نیم باز کا
- اے دریغا وہ رند شاہد باز
- تا باز گشت سے نہ رہے مدعا مجھے
- تو مشق باز کر دل پروانہ ہے بہار
- چرخ کج باز نے چاہا کہ کرے مجھ کو ذلیل
- رشتۂ ساز ازل ہے نگہ باز پسیں
- عصفور ہے تو مقابل باز نہ ہو
- باز خواہم رفت میں پھر جاؤں گا
- دیکھتے ہی اے ستمگر تیری چشم نیم باز