بار
59 Misre
- رونے نے طاقت اتنی نہ چھوڑی کہ ایک بار
- ہوا چرخ خمیدہ ناتواں بار علائق سے
- بذوق شوخی اعضا تکلف بار بستر ہے
- بلبلوں کو دور سے کرتا ہے منع بار باغ
- گزرے ہے آبلہ پا ابر گہر بار ہنوز
- زیر بار غم دام و درم چند رہا
- دیوار بار منت مزدور سے ہے خم
- دھویں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- اے ناتمامی نفس شعلہ بار حیف
- شرار آسا زسنگ سرمہ یکسر بار جستن ہا
- جوں بوے گل ہوں گرچہ گراں بار مشت زر
- بار لائی ہے دانہ ہاے سر شک
- ہو چکے ہم جادہ ساں صد بار قطع اور پھر ہنوز
- سر کرے ہے وہ حدیث زلف عنبر بار دوست
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- اے نا تمامی نفس شعلہ بار حیف
- مرا سر رنج بالیں ہے مرا تن بار بستر ہے
- بذوق شوخیٔ اعضا تکلف بار بستر ہے
- جب لخت جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
- فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیا
- روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
- دیوار بار منت مزدر سے ہے خم
- گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
- خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوے
- سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے
- زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
- دھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو
- دست گاہ دیدۂ خوں بار مجنوں دیکھنا
- کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
- اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
- غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
- بعد یک عمر ورع بار تو دیتا بارے
- یک بار لگا دو خم مے میرے لبوں سے
- سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
- مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
- کچھ بنایا نہیں ہے اب کی بار
- ہے قلم میری ابر گوہر بار
- فرق ستیزہ مست کو ابر تگرگ بار ایک
- رہا ہے زور سے ابر ستارہ بار برس
- در حضور پر اے ابر بار بار برس
- بار ور جس کا سرو گل بے خار
- ہزار بار فلاطوں و دے چکے الزام
- ہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- کہ اجابت کہے ہر حرف پہ سو بار آمیں
- گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہ
- ہوا میں بوند کو ابر تگرگ بار گرہ
- نہ فلک آئنہ ایجاد کف گوہر بار
- سلک اختر میں مہ نو مژۂ گوہر بار
- یعنی ہر بار صورت کاغذ باد
- گن کر دیویں گے ہم دعائیں سو بار
- نہ گل اس میں نہ شاخ و برگ نہ بار
- آم کو دیکھتا اگر اک بار
- صاحب شاخ و برگ و بار ہے آم