باد
36 Misre
- نہ باندھے شعلۂ جوالہ غیر از گرد باد آتش
- بہ تقریب نگارش ہاے سطر شعلہ باد آتش
- نہ ہو بالیدہ غیر از جنبش دامان باد آتش
- چمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا
- شمع خلوت خانہ کیجیے ہر چہ باد آباد گل
- ہے غلاف دفچۂ خرشید ہر یک گرد باد
- مژدہ باد اے آرزوے مرگ غالبؔ مژدہ باد
- ہر گرد باد حلقۂ فتراک بے خودی
- نہاں ہر گرد باد دشت میں جام سفالی ہے
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- دریغ آہ سحرگہ کار باد صبح کرتی ہے
- گرد باد اس راہ کا ہے عقدۂ پیمان عجز
- کہ ہر یک گرد باد گلستاں گرداب ہوجاوے
- گرد باد آئنۂ محشر خاک مجنوں
- پھولوں کو ہوئی باد بہاری وہ ہوا گرم
- مبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیا
- طاقت فسانۂ باد اندیشہ شعلہ ایجاد
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- بہ جلوہ ریزی باد و بہ پر فشانی شمع
- نالۂ دل نے دیے اوراق لخت دل بہ باد
- چمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا
- گر چراغان سر رہ گزر باد نہیں
- بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
- گرد باد رہ بیتابی ہوں
- شرمندہ رکھتے ہیں مجھے باد بہار سے
- ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو
- تا نہ دے باد زمہریر آزار
- جنبش باد سحر نے جو ہلایا سہرا
- مثل مضمون وفا باد بدست تسلیم
- باد افسانۂ بیمار ہے عیسی کا نفس
- بوے گل سے نفس باد صبا عطر آگیں
- آتش و آب و باد و خاک نے لی
- مستی باد صبا سے ہے بہ عرض سبزہ
- گرد باد آئنہ فتراک دماغ دل ہا
- یعنی ہر بار صورت کاغذ باد
- صرصر آندھی سیل نالہ باد باؤ