بات
45 Misre
- کس بات پہ مغرور ہے اے عجز تمنا
- روشن ہوئی یہ بات دم نزع کہ آخر
- بات پر واں زبان کٹتی ہے
- ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں
- اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے
- خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
- غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
- یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانی شمع
- تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
- ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
- خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- میں اور حظ وصل خدا ساز بات ہے
- کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی
- کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
- بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
- وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
- وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
- اب کسی بات پر نہیں آتی
- ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
- ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
- اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
- اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں
- خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
- گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
- ہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو
- سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
- بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
- یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
- بگڑی ہے بہت بات بنائے نہیں بنتی
- مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات
- تجھ سے جو اتنی ارادت ہے تو کس بات سے ہے
- گرہ کا نام لیا پر نہ کر سکا کچھ بات
- عدو کے سمع رضا میں جگہ نہ پائے وہ بات
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- بات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو
- جس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات
- جز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں
- ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی بات
- کچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات
- کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات
- نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات