ایک
138 Misre
- رونے نے طاقت اتنی نہ چھوڑی کہ ایک بار
- ہر ایک ذرہ غیرت صد آفتاب ہے
- گر ایک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- تو اور ایک وہ نشنیدن کہ کیا کہوں
- ہر ایک داغ جگر آفتاب محشر ہو
- میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غماز
- بھرے پیمانۂ صد زندگانی ایک جام اس کا
- عمر بھر ایک ہی پہلو پہ سلاتا ہے مجھے
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- ہر ایک اختر ہے فلک پر قطرۂ اشک کباب
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- گل ہوا ہے ایک زخم سینہ پر خواہان داد
- پردۂ بادام ایک غربال حسرت بیز ہے
- ہم ایک میکدہ دریا کے پار رکھتے ہیں
- یہ ایک پیرہن زر نگار رکھتے ہیں
- ہزار دل پہ ہم ایک اختیار رکھتے ہیں
- سنجیدنی ہے ایک طرف رنج کوہکن
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- ساقیا دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے کہ آج
- ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
- صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
- کعبہ ایک اور سہی قبلہ نما اور سہی
- ایک بیداد گر رنج فزا اور سہی
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- ایک دل تھا کہ بصد رنگ دکھایا ہے مجھے
- کہ موج آب ہے ہر ایک چین پیشانی
- آگہی غافل کہ ایک امروز بے فردا نہیں
- وہ ایک مشت خاک کہ صحرا کہیں جسے
- میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
- ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
- صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
- ایک عالم پہ ہیں طوفانی کیفیت فصل
- ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
- ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں
- حسرت میں رہے ایک بت عربدہ جو کی
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بد گمانی
- مگر ایک شہپر مور کرے ساز بادبانی
- بہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری
- ہر ایک ذرۂ عاشق ہے آفتاب پرست
- جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
- جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
- ایک دل تس پر یہ نا امید واری ہائے ہائے
- قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
- میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
- کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- دل و جگر میں پر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
- تو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
- ہر چند ہر ایک شئے میں تُو ہے
- ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں
- طعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا
- دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال
- عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
- لاکھوں لگاؤ ایک چرانا نگاہ کا
- لاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں
- کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
- ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
- ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق
- لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالبؔ
- ایک فریاد و آہ و زاری ہے
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
- موت کا ایک دن معین ہے
- ایک مرگ ناگہانی اور ہے
- ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا
- ایک بیکسی تجھ کو عالم آشنا پایا
- جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
- ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا
- آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
- جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- نگہ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے اسدؔ
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
- ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن
- اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن
- رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
- بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
- ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن
- خون جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے
- مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
- رسم ہے مردے کی چھ ماہی ایک
- دیکھنے میں ہیں گرچہ دو پر ہیں یہ دونوں یار ایک
- وضع میں گو ہوئی دو سر تیغ ہے ذوالفقار ایک
- ایک طیش کا جانشیں درد کا یادگار ایک
- نقد سخن کے واسطے ایک عیار آگہی
- شعر کے فن کے واسطے مایۂ اعتبار ایک
- ایک وفا و مہر میں تازگی بساط دہر
- لطف و کرم کے باب میں زینت روزگار ایک
- گل کدۂ تلاش کو ایک ہے رنگ ایک بو
- ریختے کے قماش کو پود ہے ایک تار ایک
- مملکت کمال میں ایک امیر نامور
- عرصۂ قیل و قال میں خسرو نامدار ایک
- گلشن اتفاق میں ایک بہار بے خزاں
- میکدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک
- زندۂ شوق شعر کو ایک چراغ انجمن
- کشتۂ ذوق شعر کو شمع سر مزار ایک
- ایک محب چار یار عاشق ہشت و چار ایک
- جان وفا پرست کو ایک شمیم نو بہار
- فرق ستیزہ مست کو ابر تگرگ بار ایک
- کرکے دل و زبان کو غالبؔ خاکسار ایک
- گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں
- رام پور ایک بڑا باغ ہے از روے مثال
- ایک صورت نئی نظر آئی
- ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک وہ کہے
- عجیب نسخہ نادر لکھا ہے ایک اس نے
- چاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بدگمانی
- مگر ایک شہپر مور کرے ساز بادبانی
- بہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری
- ختم کر ایک اشارت میں عبارات نیاز
- ایک میں کیا کہ سب نے جان لیا
- ایک ہی ہے امید گاہ انام
- اپنی صورت کا ایک بلوریں جام
- تحریر ایک جس سے ہوا بندہ تلخ کام
- تھا ایک گونہ ناز جو اپنے کمال پر
- خدا نے اس کو دیا ایک خوبرو فرزند
- رکھ دیا ایک جام زر کھلا
- لاکھ عقدے دل میں تھے لیکن ہر ایک
- ہر سینکڑے کو ایک گرہ فرض کریں
- ان چار میں ایک سے ہو جس کو انکار
- نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرہ خاک
- یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمن دیں
- تھا ترنج زر ایک خسرو پاس
- ایک دن مثل پتنگ کاغذی
- ایک دن تجھ کو لڑا دیں گے کہیں
- ہے لڑائی حرب اور جنگ ایک چیز
- کعب ٹخنا اور شتالنگ ایک چیز
- نام کو ہیں تین پر ہے ایک چیز
- دشت صحرا اور جنگل ایک ہے
- پھر سہ شنبہ اور منگل ایک ہے