ایسے
14 Misre
- آئینہ ایسے طاق پہ گم کر کہ تو نہ ہو
- غالبؔ ایسے گنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
- ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
- دل میں ایسے کے جا کرے کوئی
- خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
- پر ہم ایسے کھوے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
- تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے
- تنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے
- جاتی ہے ملاقات کب ایسے سببوں سے
- بھاڑ میں جائیں ایسے لیل و نہار
- ہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔ
- تین تیوہار اور ایسے خوب
- ایسے ہنستے کو رلایا ہے کہ جی جانے ہے
- ایسے پڑھنے کا تو میں قائل نہیں