ایجاد
33 Misre
- بہر عرض حال شبنم سے رقم ایجاد گل
- وہم طرب ہستی ایجاد سیہ مستی
- سعی خرام کاوش ایجاد جلوہ ہے
- ایجاد گریباں ہا درپردۂ عریانی
- بہار گل دماغ نشۂ ایجاد مجنوں ہے
- سادگی ہے عدم قدرت ایجاد غنا
- بسان سبزہ رگ خواب سے زباں ایجاد
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- ہستی میں نہیں شوخی ایجاد صدا ہیچ
- کسوت ایجاد بلبل خار خار نغمہ ہے
- ہے دلبری کمیں کر ایجاد یک نگاہ
- ہے وحشت طبیعت ایجاد یاس خیز
- ہم میں سرمایۂ ایجاد تمنا کب تھا
- ہے وحشت طبیعت ایجاد یاس خیز
- طاقت فسانۂ باد اندیشہ شعلہ ایجاد
- فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ
- داغ گرم کوشش ایجاد داغ تازہ تھا
- جوہر ایجاد خط سبز ہے خود بینیٔ حسن
- نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں
- دی ہے جائے دہن اس کو دم ایجاد نہیں
- لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہار
- موم آئینۂ ایجاد ہے مغز تمکیں
- ہو وہ سرمایۂ ایجاد جہاں گرم خرام
- قبلۂ آل نبی کعبۂ ایجاد یقیں
- قطع ہوجائے نہ سر رشتۂ ایجاد کہیں
- بس کہ یک رنگ ہیں دل کرتی ہے ایجاد نسیم
- کسوت تاک میں ہے نشۂ ایجاد ازل
- اولیں دور امامت طرب ایجاد بہار
- نہ فلک آئنہ ایجاد کف گوہر بار
- عرض خمیازہ ایجاد ہے ہر موج غبار
- ہے سراسر روی عالم ایجاد اسے