اہل
68 Misre
- بھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- عنایت نامہ ہاے اہل دنیا ہر زہ عنواں ہیں
- ہے عجب مردوں کو غفلت ہاے اہل دہر سے
- کی ہے وا اہل جہاں نے بہ گلستان جہاں
- عیش گرم اضطراب و اہل غفلت سرد مہر
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- ہے سواد خط پریشاں ہوئی اہل عزا
- خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے
- جہان و اہل جہاں سے جہاں جہاں فریاد
- نہ ہووے کیونکے اسے فرض قتل اہل وفا
- حیف بے حاصلی اہل ریا پر غالبؔ
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- ہو قبول کم نگاہی تحفۂ اہل نیاز
- داغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہید
- اہل ورع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل
- رکھو نہ شمع پہ اے اہل انجمن تکیہ
- اب اس کو کہتے ہیں اہل سخن سخن تکیہ
- نقاب یار غفلت نگاہی اہل بینش کی
- نظر بہ غفلت اہل جہاں ہوا ظاہر
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ
- اہل ہوس کی فتح ہے ترک نبرد عشق
- سائل ہوئے تو عاشق اہل کرم ہوئے
- رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- اہل تدبیر کی واماندگیاں
- اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخی ناز
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
- بارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعد
- ہے جنوں اہل جنوں کے لیے آغوش وداع
- حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے
- شکیب و صبر اہل انجمن کی آزمائش ہے
- اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا
- اب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی
- دیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا
- دل ز انداز تپاک اہل دنیا جل گیا
- داغ ہم دیگر ہیں اہل باغ گر گل ہو شہیدؔ
- زبان اہل زباں میں ہے مرگ خاموشی
- بہ طرز اہل فنا ہے فسانہ خوانی شمع
- پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا
- یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- کیا بیم اہل درد کو سختیٔ راہ کا
- ہیں اہل خرد کس روش خاص پہ نازاں
- اہل بینش کو ہے طوفان حوادث مکتب
- مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس شاید
- بھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو
- ہاں اہل طلب کون سنے طعنۂ نایافت
- قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں
- کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جا
- آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- ہند میں اہل تسنن کی ہیں دو سلطنتیں
- رامپور اہل نظر کی ہے نظر میں وہ شہر
- مدح کے بعد دعا چاہیے اور اہل سخن
- غالبؔ خاک نشیں اہل خرابات سے ہے
- کس نے دیکھا نفس اہل وفا آتش خیز
- سامع زمزمۂ اہل جہاں ہوں لیکن
- قبلۂ اہل نظر کعبۂ ارباب یقیں
- نظارگی صنعت حق اہل بصارت
- عزت پہ اہل نام کی ہستی کی ہے بنا
- وہ محض رحمت و رافت کہ بہر اہل جہاں
- وہ نظرگاہ اہل وہم و خیال
- یہ ضیا بخش چشم اہل یقیں
- زمام ناقہ کف اس کے میں ہے کہ اہل یقیں
- امام وقت کی یہ قدر ہے کہ اہل عناد