اگر
128 Misre
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیں
- خرمن جلے اگر نہ بلخ کھائے کشت کو
- یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
- اگر گل حسن و الفت کی بہم جوشیدنی جانے
- اگر وہ آفت نظارہ جلوہ گستر ہو
- بہ یاد قامت اگر ہو بلند آتش غم
- اگر ڈھانپے تو آنکھیں ڈھانپ ہم تصویر عریاں ہیں
- اگر مضمون خاکستر کرے دیباچہ آرائی
- اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
- سرور نشۂ گردش اگر کیفیت افزا ہو
- اسدؔ کو زیست تھی مشکل اگر نہ سن لیتا
- ہے شرر موہوم اگر رکھتا نہ ہووے سنگ دل
- گھر سے نکالنا ہے اگر ہاں نکالیے
- اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دوچار آتش
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- بدین عجز اگر بدنامی تقدیر بہتر ہے
- کمال حسن اگر موقوف انداز تغافل ہو
- دم تیغ توکل سے اگر پاے سبب کاٹے
- حیرت اگر خرام ہے کار نگہ تمام ہے
- آگ بھڑکی منہ اگر دم بھر کھلا
- صبح دم وہ جلوہ ریز بے نقابی ہو اگر
- اگر آسودگی ہے مدعائے رنج بیتابی
- نوائے خفتۂ الفت اگر بیتاب ہوجاوے
- اگر وحشت عرق افشان بے پروا خرامی ہو
- برنگ گل اگر شیرازہ بند بے خودی رہیے
- اگر اس شعلہ رو کو دوں پیام مجلس افروزی
- ذوق راحت اگر احرام تپش ہو جوں شمع
- طاقت اگر اعجاز کرے تہمت خم باندھ
- اگر ابر سیہ مست از سوے کہسار ہو پیدا
- شوق عناں گسل اگر درس جنوں ہوس کرے
- دل فرش رہ ناز ہے بیدل اگر آوے
- اگر وا ہو تو دکھلادوں کہ یک عالم گلستاں ہے
- وحشت اگر رسا ہے بے حاصلی ادا ہے
- اگر آسودگی ہے مدعائے رنج بیتابی
- وائے اگر عہد استوار نہیں ہے
- چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
- ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
- رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
- میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے
- اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
- قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
- اس چشم فسوں گر کا اگر پائے اشارہ
- اے واے اگر معرض اظہار میں آوے
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بے دلی گرانی
- اگر آرزو رسا ہو پئے درد دل دوا ہو
- حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
- اگر وہ سرو قد گرم خرام ناز آ جاوے
- اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
- یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
- اگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے
- الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
- دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
- دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
- اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
- ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
- ظلم کر ظلم اگر لطف دریغ آتا ہو
- اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
- کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
- قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
- دکھاؤں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے
- یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
- زنہار اگر تمہیں ہوس نائے و نوش ہے
- رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے
- نشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا
- خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوے
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
- اگر شراب نہیں انتظار ساغر کھینچ
- اگر یہی عرق فتنہ ہے مکرر کھینچ
- خمار منت ساقی اگر یہی ہے اسدؔ
- غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر
- اگر بووے بجاۓ دانہ دہقاں نوک نشتر کی
- اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
- اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دو چار آتش
- اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
- نہ ہوئی غالبؔ اگر عمر طبیعی نہ سہی
- دہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا
- بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
- چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے
- یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
- خرمن جلے اگر نہ ملخ کھائے کشت کو
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیں
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی
- بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو
- الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ
- کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
- پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
- رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
- اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
- نا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں
- خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم
- ہے ننگ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
- ہے عار دل نفس اگر آذر فشاں نہیں
- لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین
- یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
- اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
- کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
- کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
- جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
- مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
- وضع میں اس کو اگر سمجھیے قاف تریاق
- خضر بھی یاں اگر آجائے تو لے ان کے قدم
- افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو
- روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے
- گرچہ تو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرے
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بیدلی گرانی
- اگر آرزو رسا ہو پے درد دل دوا ہو
- ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
- اگر آئینہ بنے حیرت صورت گرچیں
- چاہیں اگر حضور تو مشکل نہیں یہ کام
- میکدے میں ہو اگر آرزوے گل چینی
- یاں تک انصاف نوازی کہ اگر ریزۂ سنگ
- موج طوفاں ہو اگر خون دو عالم ہستی
- گرد رہ اس کی بھریں شیشۂ ساعت میں اگر
- سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو
- اگر کہیں نہ خداوند کیا کہیں اس کو
- اگر نہ شافع روز جزا کہیں اس کو
- اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اس کو
- آم کو دیکھتا اگر اک بار
- اگر ہوتا تو کیا ہوتا یہ کہیے
- تیغ کی ہندی اگر تلوار ہے
- سی اگر کہیے تو ہندی اس کی تیس
- ہاں فراوانی اگر کچھ ہے تو ہے آفات میں