اک
119 Misre
- ہوں اک آفت میں گرفتار کہوں یا نہ کہوں
- فقط اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
- وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- اگی اک پنبۂ روزن سے ہی چشم سفید آخر
- اک منہ ہے کون کون سے ارماں نکالیے
- دھویں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- اک سفیدی مارتی ہے دور سے چشم غزال
- ہم اک طرف ہیں برق شرر بیزیک طرف
- دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- ہے ہر اک فرد جہاں میں ورق ناخواندہ
- کیوں نہ دلی میں ہر اک ناچیز نوابی کرے
- عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
- یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
- انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- ہوسکے کیا مدح ہاں اک نام ہے
- طاؤس نے اک آئنہ خانہ رکھا گرو
- موج بہار رکھتی ہے اک بوریا گرو
- یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
- انتظار عید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- ہر نہال شمع میں اک غنچۂ گل گیر ہے
- اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
- بسکہ ہیں ہم اک بہار ناز کے مارے ہوئے
- قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کا
- اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
- آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
- گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک
- اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک
- اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے
- ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
- خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
- مرے دام تمنا میں ہے اک صید زبوں وہ بھی
- مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
- لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- جانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے
- تپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھا
- اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آوے
- جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
- دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
- صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔ
- ترے سرو قامت سے اک قد آدم
- اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
- ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
- چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
- دل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہائے ہائے
- اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
- دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
- یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں
- منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
- پھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت
- بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے
- فقط اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
- یہ جو اک لذت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
- وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
- مرا ہر داغ دل اک تخم ہے سرو چراغاں کا
- مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
- ہنوز اک پرتو نقش خیال یار باقی ہے
- ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
- یادگار نالہ اک دیوان بے شیرازہ تھا
- دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
- اک شمع ہے دلیل سحر سو خموش ہے
- اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
- گر اک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر
- قیامت اک ہوائے تند ہے خاک شہیداں پر
- اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
- اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
- قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
- ہے اک شکن پڑی ہوئی طرف نقاب میں
- اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں
- اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
- وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
- دھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے
- ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال
- تھی وہ اک شخص کے تصور سے
- وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
- پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
- شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
- اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا
- مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
- جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
- عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
- یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
- مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
- وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
- کہ چشم تر میں ہر اک پارۂ دل پائے در گل ہے
- اک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں
- ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا
- بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
- خواری کو بھی اک عار ہے عالی نسبوں سے
- ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
- ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور
- تھا میں اک بے نواے گوشہ نشیں
- تھا میں اک درد مند سینہ فگار
- اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاے ہاے
- نسبت اک گونہ مرے دل کو ترے ہات سے ہے
- نہیں کتاب ہے اک منبع نکات بدیع
- نہیں کتاب ہے اک معدن جواہر کام
- یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائے
- جی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیز
- ہوا کرے گی ہر اک سال آشکار گرہ
- وہ بھی تھی اک سیمیا کی سی نمود
- اک نگار آتشیں رخ سر کھلا
- اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
- اک تسمہ لگا رہا کہ تا روزے چند
- آم کو دیکھتا اگر اک بار
- مسجد کے زیر سایہ اک گھر بنا لیا ہے
- روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے
- پاڑ ہے تالار اک عالم سے پوچھ
- اک غزل تم اور پڑھ لو والسلام
- جس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات