اچھا
31 Misre
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- عافیت بیزار ذوق کعبتین اچھا نہیں
- ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
- غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
- اچھا ہے سر انگشت حنائی كا تصور
- حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
- اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے
- جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
- ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
- وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
- وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
- اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
- جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
- کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
- شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے
- دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
- رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر
- تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا
- میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
- گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
- شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
- قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائے
- چاہنے والا بھی اچھا چاہیے
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- غالبؔ کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے
- زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
- ان کو غالبؔ یہ سال اچھا ہے
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ