اپنے
51 Misre
- اپنے دل ہی سے میں احوال گرفتاری دل
- حسب حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں
- حیرت اپنے نالۂ بیدرد سے غفلت بنی
- نقص پر اپنے ہوا جو مطلع کامل ہوا
- پنبۂ میناے مے رکھ لو تم اپنے کان میں
- مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی
- صدف دندان گوہر سے بہ حسرت اپنے لب کاٹے
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- دیوار سے اپنے سر کو پھوڑے
- کچھ نہ کی اپنے جنون نارا سنے ورنہ یاں
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
- جلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
- قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
- تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- یا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا
- اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا
- اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
- دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
- خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
- کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
- ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
- ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
- انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
- مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
- اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
- اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
- اپنے کو دیکھتا نہیں ذوق ستم کو دیکھ
- عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
- ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا
- جائے مے اپنے کو کھینچا چاہیے
- نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
- شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
- اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
- دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
- ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
- پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی
- کہتا تھا کل وہ محرم راز اپنے سے کہ آہ
- کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
- گھر پھونکنے میں اپنے محابا نہیں ہم کو
- کہ گر اپنے کو میں کہوں خاکی
- شاد ہوں لیکن اپنے جی میں کہ ہوں
- عاشق ہے اپنے حاکم عادل کے نام کی
- صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ خدا گواہ
- اپنے اپنے زمانے میں غالب
- جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے
- تھا ایک گونہ ناز جو اپنے کمال پر
- اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اس کو
- درم و دام اپنے پاس کہاں