اپنی
46 Misre
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے کہنا نہیں مجھے
- گر ایک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- اپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- کرے ہے حسن خوباں پردے میں مشاطگی اپنی
- مجھ سے مت کہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- رہے ہم داغ اپنی کاہلی سے
- کچھ نہ کی اپنی جنون نارسا نے ورنہ یاں
- کھینچتا ہوں اپنی آنکھوں میں سلائی نیل کی
- کروں گر عرض سنگینی کہسار اپنی بیتابی
- یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
- مجھ سے مت کہہ تُو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
- یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
- اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل
- ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
- دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا
- آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
- نہ اوروں کی سنتا نہ کہتا ہوں اپنی
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
- اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
- گر اک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
- رکھوں کچھ اپنی بھی مژگان خوں فشاں کے لیے
- میں ہوں اپنی شکست کی آواز
- اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی
- جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے
- وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لہنا نہیں مجھے
- اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے
- آج ہم اپنی پریشانی خاطر ان سے
- جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
- تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
- ہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار
- اپنی صورت کا ایک بلوریں جام
- نتیجہ اپنی آہوں کا ہے شکل مستوی پورا
- جوں شمع آپ اپنی وہ خوراک ہو گئے
- کاٹ اپنی کاٹھ کی تلوار کا