اپنا
47 Misre
- اپنا احوال دل زار کہوں یا نہ کہوں
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- نہ بھولا اضطراب دم شماری انتظار اپنا
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- بدام جوہر آئینہ ہو جاوے شکار اپنا
- ہوا ہے نقشبند آئنہ سنگ مزار اپنا
- طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
- نیاز گردش پیمانہ مے روزگار اپنا
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- نہ بھولا اضطراب دم شماری انتظار اپنا
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- بدام جوہر آئینہ ہو جاوے شکار اپنا
- ہوا ہے نقشبند آئنہ سنگ مزار اپنا
- طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
- نیاز گردش پیمانہ مے روزگار اپنا
- جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- سر پیٹتے ہیں اپنا ہم اور نیک نامی
- ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
- بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
- آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
- عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
- بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
- انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا
- ننگ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا
- دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
- بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
- قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
- غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ
- وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
- شعلۂ عشق کو اپنا سر و ساماں سمجھا
- اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں
- غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
- ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- چراغ روشن اپنا قلزم صرصر کا مرجاں ہے
- اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے
- میرا اپنا جدا معاملہ ہے
- کیوں رکھوں ورنہ غالبؔ اپنا نام
- سمجھا تھا نبی نے ان کو اپنا ہمدم
- جو حد تقوی ادا نہ ہووے تو اپنا مذہب یہی ہے غالبؔ
- ورنہ تھا اپنا ارادہ پار کا
- پر نصیب اپنا انھیں جاتا سنا جوں پھر گئے