اٹھایا
7 Misre
دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ
یک بیاباں دل بیتاب اٹھایا ہے مجھے
دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
ہم سے رنج بیتابی کس طرح اٹھایا جائے
باندھنے کو جو ترے سر پہ اٹھایا سہرا
جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گا
ا
All Letters