اور
362 Misre
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروے کار
- میں اور صد ہزار نوائے جگر خراش
- تو اور ایک وہ نشنیدن کہ کیا کہوں
- یک طرف جلتا ہے دل اور یک طرف جلتا ہوں میں
- میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غماز
- کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- آپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- ہمارا کام ہوا اور تمہارا نام رہا
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- واں سے ہے تکلیف عرض بیدماغی اور اسدؔ
- کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
- نقد ہے داغ دل اور آتش زبانی مفت ہے
- تندرستی فائدہ اور ناتوانی مفت ہے
- ساق گل رنگ سے اور آئنہ زانو سے
- کہ بوسۂ لب شیریں ہے اور گلو سوزی
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- نفس تیری گلی میں خوں ہو اور بازار رنگیں ہے
- حاصل دلبستگی ہے عمر کو نہ اور بس
- حکم بے تابی نہیں اور آرمیدن منع ہے
- مال سنّی کو مباح اور خون صوفی کو حلال
- تمنا ہے اسدؔ قتل رقیب اور شکر کا سجدہ
- یاں سوختنی اور وہاں ساختنی ہے
- وہ جلوہ کر کہ نہ میں جانوں اور نہ تو جانے
- خم گیسو ہو شمشیر سیہ تاب اور شب کاٹے
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- ہے اسدؔ نقصاں میں مفت اور صاحب سرمایہ تو
- اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
- ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جاے
- ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا
- میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی
- تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی
- ہیں ہوس پیشہ بہت وہ نہ ہو اور سہی
- تم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی
- آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی
- کعبہ ایک اور سہی قبلہ نما اور سہی
- خلد بھی باغ ہے خیر آب و ہوا اور سہی
- سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
- زہر کچھ اور سہی آب بقا اور سہی
- ایک بیداد گر رنج فزا اور سہی
- مجھ میں اور مجنوں میں وحشت ساز دعوا ہے اسدؔ
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
- ہوا وہ شعلہ داغ اور شوخی خاشاک باقی ہے
- اثر سرمے سے اور لب ہاے عاشق سے صدا گم ہو
- دیا ابرو کو چھیڑ اور اس نے فتنے کو اشارت کی
- خدایا خوں ہو رنگ امتیاز اور نالہ موزوں ہو
- کہ مے عکس شفق ہے اور ساغر ہے حباب اس کا
- اڑے رنگ گل اور آئینہ دیوار ہو پیدا
- کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
- ہم اور تم فلک پیر جس کو کہتے ہیں
- ہے کہاں قیصر اور کہاں فغفور
- کیجیے جوں اشک اور قطرہ زنی
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- تو پست فطرت اور خیال بسا بلند
- دیتا ہے اور جوں گل و شبنم بہار داغ
- یاں اشک جدا گرم ہے اور آہ جدا گرم
- ہو چکے ہم جادہ ساں صد بار قطع اور پھر ہنوز
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- وہ پردہ نشیں اور اسدؔ آئینہ اظہار
- وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
- میں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے
- ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں
- مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
- عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
- آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا
- تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا
- کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
- دنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- تکلف برطرف فرہاد اور اتنی سبکدستی
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- کرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے وفائی
- سر پیٹتے ہیں اپنا ہم اور نیک نامی
- بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
- اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
- قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل
- میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
- ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
- اور درویش کی صدا کیا ہے
- حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرم
- ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
- یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے
- بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
- لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
- ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
- ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
- منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
- میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
- عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا
- میرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا
- رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
- ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو
- کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
- اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
- نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک
- دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- آپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
- بسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پے
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
- نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
- مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
- میں اور صد ہزار نواۓ جگر خراش
- تو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
- انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے
- سامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں
- رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم
- لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
- تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
- ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
- آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں
- مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
- کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
- کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
- پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
- کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
- بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
- کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور
- قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
- میں اور دکھ تری مژہ ہائے دراز کا
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
- عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
- قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
- میں اور حظ وصل خدا ساز بات ہے
- میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
- کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
- میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
- اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
- کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
- نصیر دولت و دیں اور معین ملت و ملک
- بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
- ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
- کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
- تو اور آرائش خم کاکل
- میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
- ہم ہیں اور راز ہائے سینہ گداز
- میں غریب اور تو غریب نواز
- امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
- علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب
- یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
- دل کو میں اور مجھے دل محو وفا رکھتا ہے
- وہ فراق اور وہ وصال کہاں
- میں کہاں اور یہ وبال کہاں
- اور پھر وہ بھی زبانی میری
- کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے
- وہ بد خو اور میری داستان عشق طولانی
- کوئی دن گر زندگانی اور ہے
- اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
- سوز غم ہائے نہانی اور ہے
- پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
- کچھ تو پیغام زبانی اور ہے
- وہ بلائے آسمانی اور ہے
- ایک مرگ ناگہانی اور ہے
- ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
- اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
- واقعہ سخت ہے اور جان عزیز
- ہے ہے خدا نخواستہ وہ اور دشمنی
- یاں نالہ کو اور الٹا دعواۓ رسائی ہے
- یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوب
- ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجے
- حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو
- ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدر
- رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
- ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
- محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
- کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
- پرسش ہے اور پاے سخن درمیاں نہیں
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
- ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
- کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور
- دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
- ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور
- لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
- ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور
- ہوتے جو کئی دیدۂ خوں نابہ فشاں اور
- جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
- ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور
- کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور
- رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
- ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
- کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
- اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
- کچھ اور ہی عالم ہے دل و چشم و زباں کا
- کچھ اور ہی نقشا نظر آتا ہے جہاں کا
- کیسا فلک اور مہر جہاں تاب کہاں کا
- خانہ زاد اور مرید اور مداح
- رات کو آگ اور دن کو دھوپ
- اور چھ ماہی ہو سال میں دوبار
- اور رہتی ہے سود کی تکرار
- آپ کا بندہ اور پھروں ننگا
- آپ کا نوکر اور کھاؤں ادھار
- جو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مست
- لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند
- اور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے
- مدح کے بعد دعا چاہیے اور اہل سخن
- ہے اصل تخم ہند سے اور اس زمین سے
- اور پھر ہندسہ تھا بارہ کا
- سات اور سات ہوتے ہیں چودہ
- اور بارہ امام ہیں بارہ
- پییں بادۂ ناب اور آم کھائیں
- آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
- سوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
- میں کون اور ریختہ ہاں اس سے مدعا
- پجے ہے جوگ مایا اور دیبی
- نہ ظہوری ہے اور نہ طالب ہے
- زر قیمت کا ہو گا اور حساب
- اور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروں
- ہم نشیں تارے ہیں اور چاند شہاب الدین خاں
- تجھ میں اور غیر میں نسبت ہے و لیکن بہ تضاد
- کہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں
- نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں
- گرہ سے اور گرہ کی امید کیوں نہ بڑھے
- کہ جادہ رشتہ ہے اور ہے شتر قطار گرہ
- زباں تک آ کے ہوئی اور استوار گرہ
- یہی انداز اور یہی اندام
- صبح جو جائے اور آئے شام
- تیرا آغاز اور ترا انجام
- اور کے لین دین سے کیا کام
- اور ان اوراق میں بہ کلک قضا
- خال کو دانہ اور زلف کو دام
- سنین عیسوی اٹھارہ سو اور اٹھاون
- کہ آپ کا ہے نمک خوار اور دولت خواہ
- تمہیں اور اس کو سلامت رکھے سدا اللہ
- تین تیوہار اور ایسے خوب
- اور بال پری ہے دامن زیں
- اور داغ آپ کی غلامی کا
- آپ کی مدح اور میرا منھ
- اور پھر اب کہ ضعف پیری سے
- آواز تری نکلے اور آواز کے ساتھ
- میں تجھ سے اور مجھ سے تو پوشیدہ
- کہتے ہیں وہ مجھ کو رافضی اور دہری
- ہم اور فسردن اے تجلی افسوس
- وہ صدق وہ عدل وہ حیا اور وہ علم
- وہ دوست نبی کے اور تم ان کے دشمن
- پیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اس کو
- علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اس کو
- علی کے بعد حسن اور حسن کے بعد حسین
- اور غالبؔ پہ مہربان رہیں
- آئے یہ گوے اور یہ میداں
- اور دوڑائیے قیاس کہاں
- ہم کہاں ورنہ اور کہاں یہ نخل
- اور غالب پہ مہرباں رکھیو
- خدا کے بعد نبیؐ اور نبیؐ کے بعد امام
- ہماری زندگی کیا اور ہم کیا
- بندہ خدا کا اور علی کا غلام ہوں
- بہت جیوں تو جیوں اور تین چار برس
- قادر اور اللہ اور یزداں خدا
- کھولنا افطار ہے اور روزہ صوم
- لیل یعنی رات دن اور روز یوم
- جانماز اور پھر مصلیٰ ہے وہی
- اور سجادہ بھی گویا ہے وہی
- پھر فلک چرخ اور گردوں اور سپہر
- غرب پچھم اور پورب شرق ہے
- ابر بدلی اور بجلی برق ہے
- آگ کا آتش اور آذر نام ہے
- اور انگارے کا اخگر نام ہے
- نیولا راسو ہے اور طاؤس مور
- خم ہے مٹکا اور ٹھلیا ہے سبو
- طفل لڑکا اور بوڑھا پیر ہے
- سینہ چھاتی دست ہاتھ اور پا پاؤں
- استخواں ہڈی ہے اور ہے پوست کھال
- سگ ہے کتا اور گیدڑ ہے شغال
- تل کو کنجد اور رخ کا گال کہہ
- ہے شکم پیٹ اور بغل آغوش ہے
- کہنی آرنج اور کندھا دوش ہے
- ہے لڑائی حرب اور جنگ ایک چیز
- کعب ٹخنا اور شتالنگ ایک چیز
- چشم ہے آنکھ اور مژگاں ہے پلک
- مسا آژخ اور چھالا آبلہ
- اور ہے دائی جنائی قابلہ
- اونٹ اشتر اور اشغر سیہ ہے
- گوشت ہے لحم اور چربی پیا ہے
- خاد ہے چیل اور زغن بھی ہے وہی
- چیونٹی ہے مور اور ہاتھی ہے فیل
- لومڑی روباہ اور آہو ہرن
- شمس سورج اور شعاع اس کی کرن
- خر گدھا اور اس کو کہتے ہیں الاغ
- اور تیہو ہے لوئی کی فارسی
- نام مکڑی کا قلاش اور عنکبوت
- کہتے ہیں مچھلی کو ماہی اور ہوت
- پشہ مچھر اور مکھی ہے مگس
- بھیڑیا گرگ اور بکری گوسپند
- زر ہے سونا اور زر گر ہے سنار
- موز کیلا اور ککڑی ہے خیار
- ریش داڑھی موچھ سبلت اور بروت
- احمق اور نادان کو کہتے ہیں اوت
- زندگانی ہے حیات اور مرگ موت
- شوے خاوند اور ہے انباغ سوت
- جملہ سب اور نصف آدھا ربع پاؤ
- ہے جراحت اور زخم اور گھاؤ ریش
- ہفت سات اور ہشت آٹھ اور بست بیس
- ہے چہل چالیس اور پنجاہ پچاس
- ناامیدی یاس اور امید آس
- دوش کل کی رات اور امروز آج
- ارد آٹا اور غلہ ہے اناج
- اور بھائی کو برادر جاننا
- پھاوڑا بیل اور درانتی واس ہے
- فارسی کاہ اور ہندی گھاس ہے
- بادفر پھرکی ہے اور ہے دزد چور
- انگبیں شہد اور عسل یہ اے عزیز
- عاجل اور آروغ کی ہندی ڈکار
- مے شراب اور پینے والا میگسار
- خانہ گھر ہے اور کوٹھا بام ہے
- اور تربز ہند دانہ لا کلام
- اور شعلے کی زبانہ فارسی
- جو کہ بے چین اور بے آرام ہے
- پست اور ستو کو کہتے ہیں سویق
- ژرف اور گہرے کو کہتے ہیں عمیق
- کم ہے اندک اور گھٹانا کاستن
- اور جنگیدن ہے لڑنا کیوں لڑو
- اور پھرنے کی ہے گشتن فارسی
- اور نوشیدن کو تم پینا کہو
- کاشتن بونا ہے اور کشتن بھی ہے
- اور سننے کی شنیدن فارسی
- اور یسیدن کی ہندی چاٹنا
- تولنے کو اور سنجیدن کہو
- اور اگنے کی دمیدن فارسی
- آج عالم اور ہے بازار کا
- پوزی افسار اور دمچی پاردم
- چھید کو تم رخنہ اور روزن کہو
- اور گھنٹالا درا ہے یاد رکھ
- دشت صحرا اور جنگل ایک ہے
- پھر سہ شنبہ اور منگل ایک ہے
- دسپنا انبر ہے اور انبور ہے
- اور ہے کنگھے کی شانہ فارسی
- ہینگ انگوزہ ہے اور ارزیر رانگ
- ساز باجا اور ہے آواز بانگ
- خشم غصے اور بد خوئی کو جان
- لوہے کو کہتے ہیں آہن اور حدید
- ہے نوا آواز ساماں اور اول
- نرخ قیمت اور بہا یہ سب ہیں مول
- گیتی اور گیہاں ہے دنیا یاد رکھ
- اور ہے نداف دھنیا یاد رکھ
- فارسی گلخن ہے اور ہندی ہے بھاڑ
- تکیہ بالش اور بچھونا بسترہ
- بسترہ بولیں سپاہی اور فقیر
- پیر بوڑھا اور برنا ہے جواں
- کیا ہے ارض اور مرز تم سمجھے زمیں
- عنق گردن اور پیشانی جبیں
- اور فوفل چھالیا مشہور ہے
- بانسلی نے اور جلاجل جھانجھ ہے
- پھر سترون اور عقیمہ بانجھ ہے
- کحل سرمہ اور سلائی میل ہے
- اک غزل تم اور پڑھ لو والسلام
- دیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھر گئے