انگشت
42 Misre
- سبزہ جوں انگشت حیرت دردہان گور ہے
- ناخن انگشت بتخال لب بیمار ہے
- کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- میں الفت مژگاں میں جو انگشت نما ہوں
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سر بسر انگشت
- جوں ماہی بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- آتی نہیں پنجے میں بس اس کے نظر انگشت
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- خالی مجھے دکھلا کے بوقت سفر انگشت
- مژگاں کی محبت میں جو انگشت نما ہوں
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- ہر سر انگشت نوک خامۂ فرسودہ ہے
- ناخن انگشت خوباں نعل واژوں ہے مجھے
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- خالی مجھے دکھلا کے بہ وقت سفر انگشت
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- مژگاں کی محبت میں جو انگشت نما ہوں
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سربسر انگشت
- جوں ماہیٔ بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- میں الفت مژگاں میں جو انگشت نما ہوں
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- ناخن انگشت بت خال لب بیمار ہے
- شمع سے ہے بزم انگشت تحیر در دہن
- اچھا ہے سر انگشت حنائی كا تصور
- کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر
- شمع رویاں کی سر انگشت حنائی دیکھ کر
- دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال
- خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے
- مسی آلودہ سر انگشت حسیناں لکھیے