اندوہ
7 Misre
کثرت اندوہ سے حیران و مضطر ہے اسدؔ
اندوہ سے ڈر کے منھ نہ موڑے
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ عشق کی
میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں
پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے اسدؔ
گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
ا
All Letters