انداز
62 Misre
- خوشا مستی کہ جوش حیرت انداز قاتل سے
- فقط اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
- شکست حال انداز آفرین کج کلاہی ہے
- کرے ہے لطف انداز برہنہ گوئی خوباں
- حیرت انداز رہبر ہے عناں گیر اے اسدؔ
- ہے دو عالم صید انداز شہ دلدل سوار
- بہ گرد سر مہ انداز نگاہ شرمگیں پایا
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- پیام تعزیت پیدا ہے انداز عیادت سے
- ہوں زپا افتادۂ انداز یاد حسن سبز
- ہے گداز موم انداز چکیدن ہاے خوں
- بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
- صفا و شوخی و انداز حسن پا بہ رکاب
- کمال حسن اگر موقوف انداز تغافل ہو
- مگر وہ خانہ بر انداز گفتگو جانے
- کہ شاخ گل کا خم انداز ہے بالیں شکستن کا
- سپند شعلہ نادیدہ صفت انداز جستن کا
- آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی
- نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
- شرار سنگ انداز چراغ از چشم جستن ہا
- پامردیک انداز نہیں قامت ہستی
- نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
- آئنہ رخصت انداز روانی مانگے
- لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائے گا
- دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے
- پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار
- سو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی
- تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
- ہوئی معزولی انداز و ادا میرے بعد
- دیکھو تو دل فریبی انداز نقش پا
- ہے گداز موم انداز چکیدن ہائے خوں
- دل ز انداز تپاک اہل دنیا جل گیا
- یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا
- وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے
- فقط اک شعر میں انداز رسا رکھتے تھے
- پوچھ مت رسوائی انداز استغنائے حسن
- آئینہ بہ انداز گل آغوش کشا ہے
- کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا
- انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
- منہ نہ دکھلاوے نہ دکھلا پر بہ انداز عتاب
- آئنہ رخصت انداز روانی مانگے
- بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
- اے ترا ظلم سر بہ سر انداز
- ی نگاہ غلط انداز تو سم ہے ہم کو
- پھر اس انداز سے بہار آئی
- یک بیاباں جلوۂ گل فرش پا انداز ہے
- لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائیے گا
- جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا
- تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
- دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے
- کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
- تیرا انداز سخن شانۂ زلف الہام
- تیرا انداز تغافل مرے مرنے کی دلیل
- اس سے انداز شوکت تحریر
- تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
- یہی انداز اور یہی اندام
- کاٹ کر پھینکیے ناخن تو با انداز ہلال
- عکس موج گل و سر شاری انداز حباب
- یک جہاں بسمل انداز پر افشانی ہے
- حسن کا خط پر نہاں خندیدنی انداز ہے