انجام
14 Misre
- انجام شمار غم نہ پوچھو
- حیرت آئینۂ انجام جنوں ہوں جوں شمع
- گر کرے انجام کو آغاز ہی میں یاد گل
- مت رکھ اے انجام غافل ساز ہستی پر غرور
- بے سر و ساماں اسدؔ فتنہ سر انجام ہے
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- غافلاں آغاز کار آئینۂ انجام ہے
- حیرت آئنہ انجام جنوں ہوں جیوں شمع
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- انجام شمار غم نہ پوچھو
- بجز دیوانگی ہوتا نہ انجام خود آرائی
- تیرا آغاز اور ترا انجام
- ہو ابد تک رسائیٔ انجام
- شعلہ آغاز ولے حیرت داغ انجام