انتظار
48 Misre
- ہنگام انتظار قدوم بتاں اسدؔ
- آنکھوں میں انتظار سے جاں پر شتاب ہے
- بہ شغل انتظار مہو شاں در خلوت شب ہا
- بس کہ چشم از انتظار خوش خطاں بے نور ہے
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- انتظار جلوہ کاکل میں ہر شمشاد باغ
- تماشا کردنی ہے انتظار آباد حیرانی
- عرض نشاط دید ہے مژگان انتظار
- پیچیدگی ہے حامل طومار انتظار
- بیداد انتظار کی طاقت نہ لا سکی
- حیا کو انتظار جلوہ ریزی کے کمیں پایا
- گزشتگاں اثر انتظار رکھتے ہیں
- برنگ سایہ سروکار انتظار نہ پوچھ
- ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشت خیال
- خوش اوفتادگی کہ بہ صحراے انتظار
- کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
- ہوں خلوت فسردگی انتظار میں
- آئینہ فرش شش جہت انتظار ہے
- وہ آے یا نہ آے پہ یاں انتظار ہے
- نہ بھولا اضطراب دم شماری انتظار اپنا
- انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- انتظار عید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- غبار دشت وحشت سرمہ ساز انتظار آیا
- رکھتا ہے انتظار تماشاے حسن دوست
- رکھتا ہے داغ تازہ کا یاں انتظار داغ
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- نہ بھولا اضطراب دم شماری انتظار اپنا
- طاقت بیداد انتظار نہیں ہے
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- افسون انتظار تمنا کہیں جسے
- ہے انتظار سے شرر آباد رستخیز
- کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- جو ہے تجھے سر سوداۓ انتظار تو آ
- جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا
- آئینہ فرش شش جہت انتظار ہے
- وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
- اے مرگ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے
- کہ دیجے آئنۂ انتظار کو پرداز
- خوش اوفتادگی کہ بہ صحراۓ انتظار
- تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
- اگر شراب نہیں انتظار ساغر کھینچ
- تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار اے دل
- تماشا کردنی ہے لطف زخم انتظار اے دل
- خاک فرصت برسر ذوق فنا اے انتظار
- معزولیٔ تپش ہوئی افراط انتظار
- ہر داغ تازہ یک دل داغ انتظار ہے
- اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا