ان
65 Misre
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
- حیف ہے ان کو جو سمجھیں زندگانی مفت ہے
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
- موت بس ان کی ہے جو مر کے وہیں دفن ہوئے
- زیست ان کی ہے جو اس کوچے سے گھائل آئے
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بے زار ہے
- کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
- جو پانو اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
- غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
- ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
- ان کے ناخن ہوئے محتاج حنا میرے بعد
- ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
- ہے خبر گرم ان کے آنے کی
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
- آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
- بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
- درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
- شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
- ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
- واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
- دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
- یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
- ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
- مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
- کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
- جو آؤں سامنے ان کے تو مرحبا نہ کہیں
- تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ
- غافل ان مہ طلعتوں کے واسطے
- بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں
- آج ہم اپنی پریشانی خاطر ان سے
- ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- کر دیا کافر ان اصنام خیالی نے مجھے
- ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدر
- ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
- مرتے ہیں ولے ان کی تمنا نہیں کرتے
- زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے
- ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
- دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
- کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
- خضر بھی یاں اگر آجائے تو لے ان کے قدم
- حق سے کیا مانگیے ان کے لیے جب ہو موجود
- ان کو غالبؔ یہ سال اچھا ہے
- صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظر
- طاقت ربادہ ان کا اشارا کہ ہاے ہاے
- ان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے
- ان کو لڑیاں نہ کہو بحر کی موجیں سمجھو
- بوسہ دینے میں ان کو ہے انکار
- چھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آئے
- اور ان اوراق میں بہ کلک قضا
- سمجھا تھا نبی نے ان کو اپنا ہمدم
- ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانے
- وہ دوست نبی کے اور تم ان کے دشمن
- ہیں گرچہ بہت خلیفہ ان میں ہیں چار
- ان چار میں ایک سے ہو جس کو انکار
- کرے جو ان سے برائی بھلا کہیں اس کو
- پیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
- گورے پنڈے پر نہ کر ان کے نظر
- اب تو مل جائے گی تیری ان سے سانٹھ
- قہر ہے دل ان سے الجھانا تجھے
- ان کی تاریخ میرا تاریخا
- ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے