امید
41 Misre
- اسدؔ پاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- بہ امید نگاہ خاص ہوں محمل کش حسرت
- جتنا کہ نا امید تر امیدوار تر
- اشک ریزی عرض بال افشانی امید ہے
- ہر چند امید دور تر ہو
- امید محو تماشاے گلستاں تجھ سے
- امید و نا امید و تمنا شکستہ دل
- خوں بہاے یک جہاں امید ہے تیرا خیال
- کیا ضعف میں امید کو دل تنگ نکالوں
- بہ بند گریہ ہے نقش بر آب امید رستن ہا
- چشم امید ہے روزن تری دیواروں کا
- جبین صبح امید فسانہ گویاں پر
- شکوہ و شکر کو ثمر بیم و امید کا سمجھ
- چشم پرواز و نفس خفتہ مگر ضعف امید
- یاس و امید نے یک عربدہ میداں مانگا
- چہ امید و نا امیدی چہ نگاہ و بے نگاہی
- دل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو
- ایک دل تس پر یہ نا امید واری ہائے ہائے
- ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
- کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
- ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
- اسدؔ یاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- چشم پرواز و نفس خفتہ مگر ضعف امید
- لائی ہے معتمد الدولہ بہادر کی امید
- منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
- کوئی امید بر نہیں آتی
- خاک بازی امید کارخانۂ طفلی
- ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدر
- تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
- بہ امید سعادت افزائی
- چہ امید و نا امیدی چہ نگاہ و بے نگاہی
- دل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو
- خانہ ویرانی امید و پریشانی بیم
- چشم امید سے گرتے ہیں دو عالم جوں اشک
- گرہ سے اور گرہ کی امید کیوں نہ بڑھے
- ایک ہی ہے امید گاہ انام
- گر تجھے ہے امید رحمت عام
- موج مے پر ہے برات نگرانی امید
- سبحہ گرواں ہے اسی کی کف امید کا ابر
- گرد اس دشت کی امید کو احرام بہار
- ناامیدی یاس اور امید آس