الم
14 Misre
- اسدؔ تا کے طبیعت طاقت ضبط الم لاوے
- حسرت آباد جہاں میں ہے الم غم آفریں
- درد آفریں ہے طبع الم خیز یک طرف
- گرفتار الم ہاے زمانہ
- پیدا ہوئے ہیں ہم الم آباد جہاں میں
- خار الم سے پشت بدنداں گزیدہ ہوں
- وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
- دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
- جنون و یاس و الم رزق مدعا طلبی ہے
- وگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذت الم آگے
- خار خار الم حسرت دیدار تو ہے
- ہجر یاران وطن کا بھی الم ہے ہم کو
- تاترے عہد میں ہو رنج و الم کی تقلیل
- جز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں