الفت
46 Misre
- اگر گل حسن و الفت کی بہم جوشیدنی جانے
- کیوں نہ تیغ یار کو مشاطہ الفت کہوں
- بے درد سر بہ سجدۂ الفت فرو نہ ہو
- دام گلۂ الفت زنجیر پشیمانی
- دشت الفت میں ہے خاک کشتگاں محبوس و بس
- الفت زر ہمہ نقصاں ہے کہ آخر قاروں
- سبزۂ صحراے الفت نشتر خوں ریز ہے
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- نہیں ہے مزرع الفت میں حاصل غیر پامالی
- سمجھتا ہوں تپش کو الفت قاتل کی تاثیریں
- میں الفت مژگاں میں جو انگشت نما ہوں
- مسیح کشتۂ الفت ببر علی خاں ہے
- گر نہ باندھے قلزم الفت میں سر جاے کدو
- نہیں ہے رشتۂ الفت کو اندیشہ گستن کا
- ہے غیرت الفت کہ اسدؔ اس کی ادا پر
- سراپا رہن عشق و ناگزیر الفت ہستی
- مئے الفت سے ہے میناے سرو بوستاں خالی
- نوائے خفتۂ الفت اگر بیتاب ہوجاوے
- نہ کر سر گرم اس کافر کی الفت آزمانے میں
- شرمندۂ الفت ہوں مداوا طلبی سے
- میں الفت مژگاں میں جو انگشت نما ہوں
- الفت گل سے غلط ہے دعوی وارستگی
- مجھے طاقت آزمانی تجھے الفت آزمانی
- خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
- ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
- ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی
- حاصل الفت نہ دیکھا جز شکست آرزو
- مجبوری و دعواۓ گرفتاری الفت
- قضا نے تھا مجھے چاہا خراب بادۂ الفت
- نہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں
- نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومار ناز ایسا
- ہوں گرفتار الفت صیاد
- اسدؔ زندانی تاثیر الفت ہاۓ خوباں ہوں
- یوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو
- خط عارض سے لکھا ہے زلف کو الفت نے عہد
- سرنوشت اضطراب انجامی الفت نہ پوچھ
- تجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت آزما پایا
- نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہے
- سبزۂ صحرائے الفت نشتر خوں ریز ہے
- مجھے طاقت آزمانی تجھے الفت آزمانی
- طبع کو الفت دلدل میں یہ سرگرمی شوق
- دل الفت نسب و سینۂ توحید فضا
- دشت الفت چمن و آبلہ مہماں پرور
- الفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں