افشاں
15 Misre
- کہ مثل ذرہ ہاے خاک آئینے پر افشاں ہیں
- ہے عرق افشاں مشی سے ادہم مشکین یار
- بس کہ ہریک موے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا
- افشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں
- پر افشاں ہو گئے شعلے ہزاروں
- دشت و ریگ آئنۂ صفحۂ افشاں زدہ ہے
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- تڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھا
- دل و جگر میں پر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
- بسکہ ہر یک موئے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- افشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں
- رنگ گل کے پردے میں آئینہ پر افشاں ہے
- مثل دود مجمرہا داغ بال افشاں ہے