افشانی
14 Misre
- اشک ریزی عرض بال افشانی امید ہے
- خوں ہو قفس دل میں اے ذوق پر افشانی
- برگ ریزی ہے پر افشانی نادک خوردگاں
- بلبل تصویر و دعواے پر افشانی عبث
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- جنبش نال قلم جوش پر افشانی مجھے
- جوہر فکر پر افشانی نیرنگ خیال
- یہ سر نوشت میں میری ہے اشک افشانی
- رکھے ہے کسوت طاؤس میں پر افشانی
- سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانی
- دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانی
- یک جہاں بسمل انداز پر افشانی ہے