افسوس
19 Misre
- ہے مساس دست افسوس آتش انگیز تپش
- ٹوٹا ہے افسوس موے خم زلف
- کف افسوس ملنا عہد تجدید تمنا ہے
- کف افسوس فرصت سنگ کوہ طور ملتے ہیں
- پیچ تاب جادہ ہے خط کف افسوس و بس
- روز و شب یک کف افسوس تماشائی ہے
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- رنگ ز نظر رفتہ حناے کف افسوس
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- خراب آباد غربت میں عبث افسوس ویرانی
- ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاں
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- روز و شب یک کف افسوس تماشائی ہے
- تا کجا افسوس گرمی ہاۓ صحبت اے خیال
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- دل بہ دل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا
- کف افسوس ملنا عہد تجدید تمنا ہے
- کف افسوس سو دن عہد تجدید تمنا ہے
- ہم اور فسردن اے تجلی افسوس