اعتبار
12 Misre
- تمثال ناز جلوۂ نیرنگ اعتبار
- شیشہ شکست اعتبار رنگ بگروش استوار
- شبنم گداز آئنۂ اعتبار ہے
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- یوں عاشقوں میں ہے سبب اعتبار داغ
- تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
- اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا
- کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
- شعر کے فن کے واسطے مایۂ اعتبار ایک
- بتو توبہ کرو تم کیا ہو جب اعتبار آتا ہے