اشک
74 Misre
- آئے ہیں پارہ ہائے جگر درمیان اشک
- لایا ہے لعل بیش بہا کاروان اشک
- طفلانہ ہاتھ کا ہے اشارہ زبان اشک
- از بس کہ صرف قطرہ زنی تھا بسان اشک
- مژگاں کو دوں فشار پئے امتحان اشک
- باغ بخوں تپیدن و آب روان اشک
- چھوڑے نہ چشم میں تپش دل نشان اشک
- ہے بر سر مژہ نگراں دیدبان اشک
- تاثیر جستن اشک سے نقش بر آب ہے
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- اشک چکیدہ رنگ پریدہ
- بسان اشک گرفتار چشم دام رہا
- صفاے اشک میں داغ جگر جلوہ دکھاتے ہیں
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہوجاوے
- پنجۂ مژگاں بہ طفل اشک دست دایہ ہے
- ہر ایک اختر ہے فلک پر قطرۂ اشک کباب
- اشک ریزی عرض بال افشانی امید ہے
- گوہر شب تاب اشک دیدۂ خرشید ہے
- ہر دانۂ اشک کو گہر کر
- برانگشت حساب اشک ناخن نعل واژوں ہے
- چراغان نگاہ و شوخی اشک جگر گوں ہے
- جو اشک گرا خاک میں ہے آبلۂ پا
- اشک چشم دام ہے ہر دانۂ صیاد یاں
- ہے چشم اشک ریز سے دریا شکستہ دل
- اشک سحاب جز بوداع خزاں نہیں
- نفس بہ نالہ رقیب و نگہ بہ اشک عدو
- کریں گر قدر اشک دیدۂ عاشق خود آرا یاں
- اشک جوں بیضۂ مژہ سے تہ پر پنہاں ہے
- ہر اشک چشم سے یک حلقۂ زنجیر بڑھتا ہے
- سوز دل کا کیا کرے باران اشک
- قطرۂ اشک دل بر صف مژگاں زدہ ہے
- اسدؔ ہر اشک ہے یک حلقہ بر زنجیر افزودن
- کروں گا اشک ہاے وا چکیدہ سے حساب اس کا
- گہ نالۂ کشیدہ گہ اشک چکیدہ ہوں
- آئینہ خانہ ز سیل اشک ہر ویرانہ تھا
- جوں اشک جب تلک نہ رکھوں دست و پا گرو
- جوں گوہر اشک کو ہے فرامش چکیدگی
- تسبیح اشک ہاے زمژگاں چکیدہ ہوں
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- کیجیے جوں اشک اور قطرہ زنی
- بہ جیب اشک چشم سرمہ آلود
- ہر قطرۂ شربت مجھے اشک شکری ہے
- عشاق اشک چشم سے دھوویں ہزار داغ
- صورت اشک بہ مژگان رگ تاک چڑھا
- یاں اشک جدا گرم ہے اور آہ جدا گرم
- یہ سر نوشت میں میری ہے اشک افشانی
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گر دیار کے
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- اشک بعد ضبط غیر از پنبۂ مینا نہیں
- ہو سکے کب کلفت دل مانع سیلان اشک
- اشک پیدا کر اسدؔ گر آہ بے تاثیر ہے
- اشک ہو جاتے ہیں خشک از گرمیٔ رفتار دوست
- وفور اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگ
- اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں
- تب ناز گراں مایگی اشک بجا ہے
- بہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری
- نگہ لبریز اشک و سینہ معمور تمنا ہو
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہو جاوے
- اشک چشم دام ہے ہر دانۂ صیاد یاں
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گرد یار کے
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- جز تار اشک جادۂ منزل نہیں رہا
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشک باری کا
- غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
- ہوا ہے تار اشک یاس رشتہ چشم سوزن میں
- وہی صد گونہ اشک باری ہے
- اشک باری کا حکم جاری ہے
- بہ سیل اشک لخت دل ہے دامن گیر مژگاں کا
- اشک سحاب جز بہ وداع خزاں نہیں
- بہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری
- چشم امید سے گرتے ہیں دو عالم جوں اشک
- ہر قطرۂ اشک دیدۂ پرنم تھا