اسے
52 Misre
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- گر ایک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- نقل کرتا ہوں اسے نامۂ اعمال میں میں
- شکر سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھو
- اے بے خبری اسے خبر کر
- لکھ سکا میں نہ اسے شکوۂ پیماں شکنی
- نہ ہووے کیونکے اسے فرض قتل اہل وفا
- نہیں ریزش عرق کی اب اسے ذوبان اعضا ہے
- سمجھاؤ اسے یہ وضع چھوڑے
- غیروں سے اسے گرم سخن دیکھ کے غالبؔ
- جو گرہ آپ نہ کھولی اسے مشکل باندھا
- لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
- اسے یوسف کی بوئے پیرہن کی آزمائش ہے
- یعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے
- میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
- ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
- گر اک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
- بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا
- یار لائے مری بالیں پہ اسے پر کس وقت
- دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
- بد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام
- ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہار
- اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
- زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
- خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے
- ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے
- صومعے میں اسے ٹھہرائیے گر مہر نماز
- میکدے میں اسے خشت خم صہبا کہیے
- کیوں اسے قفل در گنج محبت لکھیے
- کیوں اسے نقطۂ پرکار تمنا کہیے
- کیوں اسے گوہر نایاب تصور کیجیے
- کیوں اسے مردمک دیدۂ عنقا کہیے
- کیوں اسے تکمۂ پیراہن لیلیٰ لکھیے
- کیوں اسے نقش پئے ناقۂ سلما کہیے
- اسے فضائل علم و ہنر کی افزایش
- سمجھا اسے گراب ہوا پاش پاش دل
- زہے ستارۂ روشن کہ جو اسے دیکھے
- کہے گی خلق اسے داور سپہر شکوہ
- لکھیں گے لوگ اسے خسرو ستارہ سپاہ
- عطا کرے گا خداوند کارساز اسے
- ملے گی اس کو وہ عقل نہفتہ داں کہ اسے
- ہے سراسر روی عالم ایجاد اسے
- عشاق کی پرسش سے اسے عار نہیں
- سن سن کے اسے سخنوران کامل
- سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو
- دیکھتا ہوں اسے تھی جس کی تمنا مجھ کو
- سبز ہو جب تک اسے کہیے گیاہ
- جو نئی ہو چیز اسے کہیے جدید