اسیر
13 Misre
- ظاہرا رکھتا ہے آئینۂ اسیر زنگ دل
- اے اسدؔ ہم خود اسیر رنگ و بوے باغ ہیں
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
- شومی طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
- اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
- شرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار
- ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
- شومیٔ طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
- شرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار
- ہے اسیر ستم کشمکش دام وفا