اسی
13 Misre
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
- بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے ی
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
- اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
- خلق کا ہے اسی چلن پہ مدار
- ہے اسی طور پہ یاں دجلہ فشاں دست کرم
- اخلاص کا ہوا ہے اسی ملک سے ظہور
- پھر ہوئی ہے اسی مہینے میں
- سبحہ گرواں ہے اسی کی کف امید کا ابر
- ہے سوز جگر کا بھی اسی طور کا حال
- نعل در آتش اسی کا نام ہے