اسدؔ
317 Misre
- ہنگام انتظار قدوم بتاں اسدؔ
- حسن خوباں بسکہ بے قدر تماشا ہے اسدؔ
- تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
- دیکھ اے اسدؔ بہ دیدۂ باطن کہ ظاہرا
- جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
- اسدؔ جاں نذر الطافے کہ ہنگام ہم آغوشی
- سر شک چشم اسدؔ کیوں نہ اس میں گوہر ہو
- اے اسدؔ بیجا نہیں ہے غفلت آرامی تری
- ناتوانی سے نہیں سر در گریبانی اسدؔ
- آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔ
- اسدؔ فریفتۂ انتخاب طرز جفا
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- یارو اسدؔ کا نام و نشاں کیا
- اسدؔ ارباب فطرت قدر دان لفظ و معنی ہیں
- اسدؔ شکوہ کفر و دعا ناسپاسی
- اسدؔ پاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- اسدؔ خوباں بھی دور چرخ سے رنجیدہ خاطر ہیں
- اسدؔ تا کے طبیعت طاقت ضبط الم لاوے
- اسدؔ حسرت کش یک داغ مشک انددوہ ہے یا رب
- اسدؔ یہ فرط غم نے کی تلف کیفیت شادی
- اسدؔ بزم تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
- اسدؔ سودائے سر سبزی سے ہے تسلیم رنگیں تر
- اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
- اسدؔ قدرت سے حیدر کی ہوئی ہر گبر و ترسا کو
- حیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔ
- ہو جو بلبل پیر و فکر اسدؔ
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- اسدؔ بہ نازکی طبع آرزو انصاف
- خاک ہے عرض بہار صد نگارستاں اسدؔ
- اے اسدؔ آباد ہے مجھ سے جہان شاعری
- حیرت انداز رہبر ہے عناں گیر اے اسدؔ
- واں سے ہے تکلیف عرض بیدماغی اور اسدؔ
- شب کہ تھا نظارگی روے بتاں کا اے اسدؔ
- خانماں ہا پائمال شوخی دعوی ے اسدؔ
- جوش بے کیفیتی ہے اضطراب آرا اسدؔ
- ہے کمند موج گل فتراک بے تابی اسدؔ
- رشک ہے آسایش ارباب غفلت پر اسدؔ
- اے اسدؔ مایوس مت ہو از در شاہ نجف
- دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسدؔ
- اسدؔ تار نفس ہے ناگزیر عقدہ پیرائی
- واں پر فشان دام نظر ہوں جہاں اسدؔ
- دریا بساط دعوت سیلاب ہے اسدؔ
- سایۂ افتادگی بالین و بستر ہوں اسدؔ
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- سیماب بے قرار و اسدؔ بے قرار تر
- جوش گل کرتا ہے استقبال تحریر اسدؔ
- آئنۂ امتحاں نذر تغافل اسدؔ
- مال و جاہ و دست و پا بے زر خریدہ ہیں اسدؔ
- کثرت اندوہ سے حیران و مضطر ہے اسدؔ
- زندگانی نہیں بیش از نفس چند اسدؔ
- ہوں خموشی چمن حسرت دیدار اسدؔ
- ہے بے خمار نشۂ خون جگر اسدؔ
- افسانہ اسدؔ بایں درازی
- بوڑھا ہوا ہوں قابل خدمت نہیں اسدؔ
- عیب کا دریافت کرنا ہے ہنرمندی اسدؔ
- صد نالہ اسدؔ بلبل در بند زباں دانی
- یک جہاں گل تختۂ مشق شگفتن ہے اسدؔ
- اسدؔ کو پیچ تاب طبع برق آہنگ مسکن سے
- بے سر و ساماں اسدؔ فتنہ سر انجام ہے
- خار سے گل سینہ افگار جفا ہے اے اسدؔ
- عمر بھر ہوش نہ یک جا ہوے میرے کہ اسدؔ
- اسدؔ اٹھنا قیامت قامتوں کا وقت آرایش
- عارض گل دیکھ روے یار یاد آیا اسدؔ
- اسدؔ ہمیشہ پے کفش پاے سیم تناں
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- دست برہم سودہ ہے مژگان خوابیدہ اسدؔ
- اسدؔ کو زیست تھی مشکل اگر نہ سن لیتا
- اسدؔ ہوں مست دریا بخشی ساقی کوثر کا
- باغ خاموشی دل سے سخن عشق اسدؔ
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- اسدؔ طلسم قفس میں رہے قیامت ہے
- ہر نالۂ اسدؔ ہے مضمون داد خواہی
- اے اسدؔ خامش ہے طوطی شکر گفتار طبع
- اسدؔ جس شوق سے ذرے تپش فرسا ہوں روزن میں
- اسدؔ ہے آج مژگان تماشا کی حنا بندی
- اے اسدؔ ہم خود اسیر رنگ و بوے باغ ہیں
- ہے مگر موقوف بر وقت دگر کار اسدؔ
- فریاد سے پیدا ہے اسدؔ گرمی وحشت
- قطرہ ہاے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- ہے خامہ فیض بیعت بیدل بکف اسدؔ
- ہے سنگ ظلم چرخ سے میخانے میں اسدؔ
- اسدؔ خستہ گرفتار دو عالم اوہام
- اسدؔ وارستگاں باوصف ساماں بے تعلق ہیں
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دوچار آتش
- اسدؔ طرز عروج اضطراب دل کو کیا کہیے
- مانع بادہ کشی نادان ہے لیکن اسدؔ
- دل کی صداے شکست ساز طرب ہے اسدؔ
- اس جفا مشرب پہ عاشق ہوں کہ سمجھے ہے اسدؔ
- یک جانب اے اسدؔ شب فرقت کا بیم ہے
- لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
- کثرت انشاے مضمون تحیر سے اسدؔ
- نصیب تیرہ بلا گردش آفریں ہے اسدؔ
- کرنے نہ پائے ضعف سے شور جنوں اسدؔ
- برق بجان حوصلہ آتش فگن اسدؔ
- تا تخلص جامۂ شنگرفی ارزانی اسدؔ
- اے اسدؔ ہے مستعد شانہ گیسو شدن
- تمنا ہے اسدؔ قتل رقیب اور شکر کا سجدہ
- جاے کہ اسدؔ رنگ چمن باختنی ہے
- غنچگی ہے بر نفس پیچیدن فکر اے اسدؔ
- ہزار آفت و یک جان بے نواے اسدؔ
- اسدؔ تاثیر صافی ہاے حیرت جلوہ پرور ہو
- اسدؔ از بس کہ فوج درد و غم سر گرم جولاں ہے
- ہے مشق اسدؔ دستگہ وصل کی منظور
- کہ جو اسدؔ تپش نبض آرزو جانے
- بوے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
- شب کہ وہ گل باغ میں تھا جلوہ فرما اے اسدؔ
- اسدؔ اندیشۂ ششدر شدن ہے
- اسدؔ خاک در میخانہ اب سر پر اڑاتا ہوں
- جاے استہزا ہے عشرت کوشی ہستی اسدؔ
- اسدؔ مجھ میں ہے اس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت
- ہے اسدؔ نقصاں میں مفت اور صاحب سرمایہ تو
- میرا نیاز و عجز ہے مفت بتاں اسدؔ
- وحشت دل ہے اسدؔ عالم نیرنگ نشاط
- اے اسدؔ دسترس وصل تمنا معلوم
- صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
- اسدؔ قربان لطف جور بیدل
- عیادت سے اسدؔ میں بیشتر بیمار ہوتا ہوں
- فریاد اسدؔ بے نگہی ہاے بتاں سے
- ٹوٹے گر آئنہ اسدؔ سبحہ کو خوں بہا سمجھ
- بس کہ بے پایاں ہے صحراے محبت اے اسدؔ
- ہے غیرت الفت کہ اسدؔ اس کی ادا پر
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- مجھ میں اور مجنوں میں وحشت ساز دعوا ہے اسدؔ
- کیفیت ہجوم تمنا رسا اسدؔ
- نالاں ہو اسدؔ تو بھی سر راہ گزر پر
- ساز وحشت رقمی ہا کہ باظہار اسدؔ
- اے اسدؔ تیرگی بخت سیہ ظاہر ہے
- کریں خوباں جو سیر حسن اسدؔ یک پردہ نازک تر
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- اسدؔ ہنستے ہیں میرے گریہ ہاے زار پر مردم
- اسدؔ یہ عجز و بے سامانی فرعون توام ہے
- بے دلی ہاے اسدؔ افسردگی آہنگ تر
- بنتا اسدؔ میں سرمۂ چشم رکاب یار
- اے اسدؔ بے جا ہے ناز سجدۂ عرض نیاز
- اسدؔ ہے طبع مجبور تمنا آفرینی ہا
- ہے دل افسردہ داغ شوخی مطلب اسدؔ
- اسدؔ باوصف مشق بے تکلف خاک گردیدن
- اسدؔ ہر اشک ہے یک حلقہ بر زنجیر افزودن
- اسدؔ ہنوز گمان غرور دانائی
- اسدؔ کھائے ہوئے سرمے نے آنکھوں میں بصارت کی
- خرابات جنوں میں ہے اسدؔ وقت قدح نوشی
- اسدؔ کے واسطے رنگے بروے کار ہو پیدا
- پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔ
- نالہ کھینچا ہے سراپا داغ جرأت ہوں اسدؔ
- آہنگ اسدؔ میں نہیں جز نغمۂ بیدل
- سر معنی بہ گریبان شق خامہ اسدؔ
- اے اسدؔ رویا جو دشت غم میں میں حیرت زدہ
- بت خانے میں اسدؔ بھی بندہ گاہ گاہے
- دیباچۂ وحشت ہے اسدؔ شکوۂ خوباں
- ہوں سخت جان کاوش فکر سخن اسدؔ
- دیکھا نہیں ہے ہم نے بعشق بتاں اسدؔ
- چمن دہر میں ہوں سبزۂ بیگانہ اسدؔ
- اسدؔ مایوس مت ہو گرچہ رونے میں اثر کم ہے
- لیکن اسدؔ بوقت گزشتن جریدہ ہوں
- اسدؔ اے ہرزہ درا نالہ بہ غوغا تا چند
- اے خوشا ذوق تمنائے شہادت کہ اسدؔ
- واں ہجوم نغمہ ہاے ساز عشرت تھا اسدؔ
- بے دلی ہائے اسدؔ افسردگی آہنگ تر
- نہ پوچھ کچھ سروسامان کاروبار اسدؔ
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا براے خدا
- جوش فریاد سے لوں گا دیت خواب اسدؔ
- اے اسدؔ ہے ہنوز دلی دور
- نغمۂ بے دلاں اسدؔ ساز فسانگی نہیں
- غفلت استعداد ذوق و مدعا غافل اسدؔ
- شعر کی فکر کو اسدؔ چاہیے ہے دل و دماغ
- واں اسدؔ تار شعاع مہر خط جام ہے
- ہے ذوق گریہ عزم سفر کیجیے اسدؔ
- ہر غنچہ اسدؔ بارگہ شوکت گل ہے
- فریاد اسدؔ غفلت رسوائی دل سے
- اسدؔ گر نام دالاے علی تعویذ بازو ہو
- اسدؔ بند قباے یار ہے فردوس کا غنچہ
- اسدؔ ہوں میں پر افشان رمیدن
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- ہوں ہیولاے دو عالم صورت تقریر اسدؔ
- اسدؔ آئینۂ پرواز معانی مانگے
- صدف بن قطرۂ نیساں اسدؔ گوہر نہیں ہوتا
- بالیدگی نیاز قد جانفزا اسدؔ
- وقت خیال جلوۂ حسن بتاں اسدؔ
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- شام فراق یار میں جوش خیرہ سری سے ہم نے اسدؔ
- اے اسدؔ واشدن عقدۂ غم گرچا ہے
- پے بمقصد بردنی ہے خضرمے سے اے اسدؔ
- اسدؔ افسردگی آوارۂ کفر و دیں ہے
- دیوانگی اسدؔ کی حسرت کش طرب ہے
- اسدؔ نے کثرت دل ہاے خلق سے جانا
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- بسمل اس تیغ دو دستی کا نہیں بچتا اسدؔ
- جو بشام غم چراغ خلوت دل تھا اسدؔ
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہاے تفتہ پر زباں
- پریشانی اسدؔ در پردہ ہے سامان جمعیّت
- اشک پیدا کر اسدؔ گر آہ بے تاثیر ہے
- اسدؔ طبع متیں سے گر نکالوں شعر برجستہ
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- وہ پردہ نشیں اور اسدؔ آئینہ اظہار
- دل کار گاہ فکر و اسدؔ بے نوائے دل
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
- لغزش مستانہ و جوش تماشا ہے اسدؔ
- بزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
- باغ خاموشیٔ دل سے سخن عشق اسدؔ
- صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
- خانماں ہا پائمال شوخیٔ دعوے اسدؔ
- حیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔ
- وحشت افزا گریہ ہا موقوف فصل گل اسدؔ
- ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسدؔ
- اسدؔ فریفتۂ انتخاب طرز جفا
- بنتا اسدؔ میں سرمۂ چشم رکاب یار
- چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
- اسدؔ مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل
- کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ
- چوں نمد ہم نے کف پا پہ اسدؔ دل باندھا
- حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسدؔ
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- مبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیا
- تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- غفلت کفیل عمر و اسدؔ ضامن نشاط
- اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نے
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغت
- اسدؔ سے ترک وفا کا گماں وہ معنی ہے
- خدایا اس قدر بزم اسدؔ گرم تماشا ہو
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- قطرہ ہائے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- ہے اسدؔ بیگانۂ افسردگی اے بیکسی
- ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
- یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
- دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہا
- سایہ میرا مجھ سے مثل دود بھاگے ہے اسدؔ
- ہے دل افسردہ داغ شوخیٔ مطلب اسدؔ
- کوہ کن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسدؔ
- گزرا اسدؔ مسرت پیغام یار سے
- اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعش
- اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔ
- زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- بوئے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
- ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- بے نوائی تر صداۓ نغمۂ شہرت اسدؔ
- واں ہجوم نغمہ ہائے ساز عشرت تھا اسدؔ
- کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں
- اسدؔ ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
- میں بھی معذور جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ خراب
- اسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہے
- جاۓ استہزا ہے عشرت کوشی ہستی اسدؔ
- بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
- انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
- یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ
- جاں در ہواۓ یک نگۂ گرم ہے اسدؔ
- دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسدؔ
- کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- اس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔ
- اسدؔ میں تبسم ہوں پژمردگاں کا
- اسدؔ اے بے تحمل عربدہ بیجا ہے ناصح سے
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- اے اسدؔ ہے مستعد شانۂ گیسو شدن
- یہ مطلع اسدؔ جوہر افسون سخن ہو
- تاراج کاوش غم ہجراں ہوا اسدؔ
- اسدؔ گر نام والائے علی تعویذ بازو ہو
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- اسدؔ یاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
- جوش جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ
- خمار منت ساقی اگر یہی ہے اسدؔ
- وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
- اسدؔ آئینۂ پرواز معانی مانگے
- اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دو چار آتش
- اسدؔ بہ نازکیٔ طبع آرزو انصاف
- اسدؔ اللہ خاں تمام ہوا
- اسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہے
- اسدؔ زندانی تاثیر الفت ہاۓ خوباں ہوں
- اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ
- ہوں خموشیٔ چمن حسرت دیدار اسدؔ
- اسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے
- دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
- ساز ایمائے فنا ہے عالم پیری اسدؔ
- اسدؔ کا قصہ طولانی ہے لیکن مختصر یہ ہے
- اسدؔ یہ عجز و بے سامانیٔ فرعون توام ہے
- میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
- چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسدؔ
- شوخی اظہار کو جز وحشت مجنوں اسدؔ
- اے کرم نہ ہو غافل ورنہ ہے اسدؔ بیدل
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- وسعت مشرب نیاز کلفت وحشت اسدؔ
- نے اسدؔ جفا سائل نے ستم جنوں مائل
- دہلی کے رہنے والو اسدؔ کو ستاؤ مت
- عارض گل دیکھ روئے یار یاد آیا اسدؔ
- یک بخت اوج نذر سبک باری اسدؔ
- ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
- پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے اسدؔ
- فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
- دور اوفتادۂ چمن فکر ہے اسدؔ
- فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
- اسدؔ جمعیت دل در کنار بے خودی خوش تر
- نگہ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے اسدؔ
- اے اسدؔ دسترس وصل تمنا معلوم
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- برق بجان حوصلہ آتش فگن اسدؔ
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہائے تفتہ پر زباں
- میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس رنگ
- مت پوچھ اسدؔ وعدۂ کم فرصتیٔ زیست
- درد جدائی اسدؔ اللہ خاں نہ پوچھ
- جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
- جوش بہار کلفت نظارہ ہے اسدؔ
- جنس بازار معاصی اسد اللہ اسدؔ
- دید تا دل اسدؔ آئینۂ یک پر تو شوق
- پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ
- اسدؔ بہار تماشائے گلستان حیات
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- ہند میں اسدؔ نالاں نالہ در صفاہاں ہے