اس
442 Misre
- غیر سے دیکھیے کیا خوب نباہی اس نے
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- بہار اس کی کف مشاطہ میں بالیدنی جانے
- اب اس سے ربط کروں جو بہت ستمگر ہو
- سر شک چشم اسدؔ کیوں نہ اس میں گوہر ہو
- لیکن اس سے ناگوارا تر ہے بدنامی تری
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- بہ رہن شرم ہے با وصف شوخی اہتمام اس کا
- نگیں میں جوں شرار سنگ ناپید ہے نام اس کا
- بسان شانہ زینت ریز ہے دست سلام اس کا
- کہ داغ آرزوے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
- بھرے پیمانۂ صد زندگانی ایک جام اس کا
- مبادا ہو عناں گیر تغافل لطف عام اس کا
- کہ کشت خشک اس کا ابر بے پروا خرام اس کا
- نور سے تیرے ہے اس کی روشنی
- شور حشر اس فتنہ قامت کے حضور
- کہ اس میں ریزۂ الماس جزو اعظم ہے
- ظاہرا ہے اس چمن میں لال مادر زاد گل
- اس جگہ تخت سلیماں نقش پاے مور ہے
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- تیغ در کف کف بلب آتا ہے قاتل اس طرف
- دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسدؔ
- وقت شب اس شمع رو کے شعلۂ آواز پر
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- واے ناکامی کہ اس کافر کا خنجر تیز ہے
- اس موج مے کو غافل پیمانہ نقش پا ہے
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- آخر اس پردے میں تو ہنستی تھی اے صبح وصال
- اس جفا مشرب پہ عاشق ہوں کہ سمجھے ہے اسدؔ
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- آتی نہیں پنجے میں بس اس کے نظر انگشت
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس
- زیادہ اس سے گرفتار ہوں کہ تو جانے
- اسدؔ مجھ میں ہے اس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت
- ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ
- گرد باد اس راہ کا ہے عقدۂ پیمان عجز
- ہے غیرت الفت کہ اسدؔ اس کی ادا پر
- زیست ان کی ہے جو اس کوچے سے گھائل آئے
- وہ جو نازک ہے کمر اس پہ بہت دل آئے
- تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی
- اس کی سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- دیا ابرو کو چھیڑ اور اس نے فتنے کو اشارت کی
- لکھے کیفیت اس سطر تبسم کی عبارت کی
- نگاہ اس چشم کی افزوں کرے ہے ناتوانائی
- نہاں کیفیت مے میں ہے سامان حجاب اس کا
- بنا ہے پنبۂ سینا سے ساقی نے نقاب اس کا
- اگر اس شعلہ رو کو دوں پیام مجلس افروزی
- زبان شمع خلوت خانہ دیتی ہے جواب اس کا
- کہ مے عکس شفق ہے اور ساغر ہے حباب اس کا
- کروں گا اشک ہاے وا چکیدہ سے حساب اس کا
- غبار آوارہ و سرگشتہ ہے یا بو تراب اس کا
- اس بیاباں میں گرفتار جنوں ہوں کہ جہاں
- دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
- دیکھ اس کے ساعد سیمین و دست پر نگار
- ہے وحشت جنون بہار اس قدر کہ ہے
- بتاں زہراب اس شدت سے دو پیکان ناوک کو
- تقریر کا اس کی حال مت پوچھ
- جاتے ہیں رقیب کو خط اس کے
- پانی نہ چوائے اس کے منھ میں
- نمدور آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- نہ کر سر گرم اس کافر کی الفت آزمانے میں
- خضرؔ مشتاق ہے اس دشت کے آواروں کا
- بضرب تیشہ وہ اس واسطے ہلاک ہوا
- ہوئی ہے اس کو مری لاش بے کفن تکیہ
- لگا کے بیٹھتے ہیں اس سے راہ زن تکیہ
- اب اس کو کہتے ہیں اہل سخن سخن تکیہ
- ناگہاں اس رنگ سے خونابہ ٹپکانے لگا
- اس کے سیل گریہ میں گردوں کف سیلاب تھا
- کبھی تو اس سر شوریدہ کی بھی داد ملے
- وحشت درد بیکسی بے اثر اس قدر نہیں
- دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیے
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- کہ کم از سرمہ اس کا مشت خاکستر نہیں ہوتا
- اس قامت رعنا کی جہاں جلوہ گری ہے
- دیکھ اس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
- دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی
- اس شعلے نے گلگوں کو جو گلشن میں کیا گرم
- کہ سرد ہو نہ سکے اس کا مصرع ثانی
- بسمل اس تیغ دو دستی کا نہیں بچتا اسدؔ
- عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- اس چشم سے ہنوز نگہ یادگار ہے
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
- بھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کیے
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
- ذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
- چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
- غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
- تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک
- ہے سوا نیزے پہ اس کے قامت نوخیز سے
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا
- گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
- زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
- اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
- رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سے
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
- ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
- حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
- یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
- حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
- خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
- ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی زلف مشکیں کی
- دکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی
- تو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے
- اس چشم فسوں گر کا اگر پائے اشارہ
- گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
- مجھے اس سے کیا توقع بہ زمانۂ جوانی
- لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو
- اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دے
- ہے نامہ بر کو اس سے دعوائے ہم کلامی
- خدایا اس قدر بزم اسدؔ گرم تماشا ہو
- شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
- اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے
- بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
- ابھی اس خستہ کے نیروے تن کی آزمائش ہے
- کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
- سمجھ اس فصل میں کوتاہی نشو و نما غالبؔ
- آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
- اس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا
- آخر اس درد کی دوا کیا ہے
- حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرم
- جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
- ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
- اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
- تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
- دکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں
- دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
- سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے کیا کہئے
- اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
- کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
- اس قدر ذوق نوائے مرغ بستانی مجھے
- گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
- اس کی بزم آرائیاں سن کر دل رنجور یاں
- نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیں
- ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
- غم اس کو حسرت پروانہ کا ہے اے شعلے
- رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
- اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
- نظارہ کیا حریف ہو اس برق حسن کا
- جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ
- کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
- اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعش
- اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔ
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
- ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
- نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
- ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
- ہرچند اس کے پاس دل حق شناس ہے
- اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
- کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو
- ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
- رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
- خدا کے واسطے داد اس جنون شوق کی دینا
- کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
- ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
- مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا
- اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا
- صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
- قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
- بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
- دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسدؔ
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
- اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
- اس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔ
- نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- نہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں
- نمد در آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
- کیا تعجب ہے جو اس کو دیکھ کر آ جائے رحم
- فنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سے
- نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی
- شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
- ناخن پہ قرض اس گرہ نیم باز کا
- جو منکر وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے
- گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
- کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
- غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- بیٹھنا اس كا وو آ کر تری دیوار کے پاس
- اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
- دی ہے جائے دہن اس کو دم ایجاد نہیں
- یہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- زمانہ عہد میں اس کے ہے محو آرایش
- سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے
- نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
- میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
- اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
- اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
- پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
- کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے
- کہ اس میں ریزۂ الماس جزو اعظم ہے
- وہ بھی دن ہو کہ اس ستم گر سے
- ہوئے اس مہروش کے جلوۂ تمثال کے آگے
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
- اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ
- اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے
- اس ستمگر کو انفعال کہاں
- اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
- دفع پیکان قضا اس قدر آساں سمجھا
- دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
- پھر اس انداز سے بہار آئی
- اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
- آج پھر اس کی روبکاری ہے
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- بارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے
- ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
- دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- کیا غم خوار نے رسوا لگے آگ اس محبت کو
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
- اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
- اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
- حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
- شب نظارہ پرور تھا خواب میں خیال اس کا
- جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے
- جو ناسزا کہے اس کو نہ ناسزا کہیے
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا
- دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگ
- اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں
- کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جا
- ہے بارے اعتماد وفا داری اس قدر
- غالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
- کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز
- مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- وائے ناکامی کہ اس کافر كا خنجر تیز ہے
- لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر
- نشہ بخشا غضب اس ساغر خالی نے مجھے
- دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
- فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
- جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا
- ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
- بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
- کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
- چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا
- کہ اس بازار میں ساغر متاع دست گرداں ہے
- ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
- اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
- مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
- ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن
- دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
- کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا
- پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی
- عشق كا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
- بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
- اس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا
- یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
- آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- ڈھونڈے ہے اس مغنی آتش نفس کو جی
- ابرو سے ہے کیا اس نگہ ناز کو پیوند
- ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور
- مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
- جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
- غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
- یا رب اس آشفتگی کی داد کس سے چاہئے
- نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
- گرتا نہیں اس رو سے کہو برق نہیں ہے
- اس کے ملنے کا ہے عجب ہنجار
- اس طرح کے وصال سے یا رب
- اس سے ہے یہ مراد کہ ہم آشنا نہیں
- وضع میں اس کو اگر سمجھیے قاف تریاق
- اور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے
- حیدرآباد بہت دور ہے اس ملک کے لوگ
- اس طرف کو نہیں جاتے ہیں جو جاتے ہیں تو کم
- اس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق رقم
- ہے اصل تخم ہند سے اور اس زمین سے
- کہا غالبؔ سے تاریخ اس کی کیا ہے
- اس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے
- اس کتاب طرب نصاب نے جب
- غرض اس سے ہیں چار دہ معصوم
- کہو اس کو کیا کھا کے ہم حظ اٹھائیں
- میں کون اور ریختہ ہاں اس سے مدعا
- مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے
- جناب قبلۂ حاجات اس بلا کش نے
- سب کو اس کا سواد ارزانی
- نہیں اس کا جواب عالم میں
- اس سے انداز شوکت تحریر
- اس کے فقروں میں کون آتا ہے
- نثر اس کی ہے کارنامۂ راز
- نظم اس کی نگار نامۂ راز
- دیکھو اس دفتر معانی کو
- اس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گا
- کرے اس نسخے کی خریداری
- اس سے لیویں گے کم نہ ہم قیمت
- نہ پوچھ اس کی حقیقت حضور والا نے
- اس پہ گزرے نہ گماں ریوو ریا کا زنہار
- تمام دہر میں اس کے مطب کا چرچا ہے
- ہوئی ہے مبدع عالم سے اس قدر انعام
- کہ بحث علم میں اطفال ابجدی اس کے
- عجیب نسخہ نادر لکھا ہے ایک اس نے
- کل اس کتاب کے سال تمام میں جو مجھے
- کہا یہ جلد کہ تو اس میں سوچتا کیا ہے
- جسے کہتے ہیں خوشی اس نے بلائیں لے کر
- کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے
- تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
- دیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بڑھ کر سہرا
- نزع مخمور ہوں اس دید کی دھن میں کہ مجھے
- نسبت نام سے اس کے ہے یہ رتبہ کہ رہے
- جلوہ پرواز ہو نقش قدم اس کا جس جا
- فیض خلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدا
- برش تیغ کا اس کی ہے جہاں میں چرچا
- کوہ کو بیم سے اس کے ہے جگر باختگی
- کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے
- جنت نقش قدم سے ہوں میں اس کی گلچیں
- اس کے جولاں میں نظر آے ہے یوں دامن زیں
- اس کی شوخی سے بہ حیرت کدہ نقش خیال
- کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں
- کہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں
- تو وا کرے اس عقدے کو سو بھی بہ اشارت
- یہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ
- کرے گا سینکڑوں اس تار پر نثار گرہ
- لگے گی اس میں ثوابت کی استوار گرہ
- عطا کیا ہے خدا نے وہ جاذبہ اس کو
- کشادہ رخ نہ پھرے کیوں کہ اس زمانے میں
- دل اس کا پھوڑ کے نکلے بہ شکل پھوڑے کے
- خدا کرے کہ کرے اس طرح ابھار گرہ
- ہاں مہ نو سنیں ہم اس کا نام
- اس کو بھولا نہ چاہیے کہنا
- غالبؔ اس کا مگر نہیں ہے غلام
- جانتا ہوں کہ اس کے فیض سے تو
- اس قدح کا ہے دور مجھ کو نقد
- اس کے مضروب کے سر و تن سے
- اس رقم کو دیا طراز دوام
- میری سنو کہ آج تم اس سر زمین پر
- اس بزم پر فروغ میں اس تیرہ بخت کو
- اس ناز کا فلک نے لیا مجھ سے انتقام
- اس کشمکش میں آپ کا مداح درد مند
- شاہان عصر چاہیے لیں عزت اس سے دام
- خود ہے تدارک اس کا گورمنٹ کو ضرور
- جہاں ہو توسن حشمت کا اس کے جولاں گاہ
- یہ اس کے عدل سے اضداد کو ہے آمیزش
- خدا نے اس کو دیا ایک خوبرو فرزند
- شعاع مہر درخشاں ہو اس کا تار نگاہ
- بنے گا شرق سے تا غرب اس کا بازی گاہ
- کہ تابع اس کے ہوں روز و شب سپید و سیاہ
- ملے گی اس کو وہ عقل نہفتہ داں کہ اسے
- دراز اس کی ہو عمر اس قدر سخن کوتاہ
- تمہیں اور اس کو سلامت رکھے سدا اللہ
- سو اس اکیس دن میں ہولی کی
- دہر میں اس طرح کی بزم سرور
- اس اکھاڑے میں جو کہ ہے مظنوں
- کہ اس آغوس میں ممکن ہے دو عالم کا فشار
- قوت نامیہ اس کو بھی نہ چھوڑے بیکار
- اس زمیں میں نہ کرے سبز قلم کی رفتار
- سایۂ تیغ کو دیکھ اس کے بہ ذوق یک زخم
- ذرہ اس گرد کا خرشید کو آئینہ ناز
- گرد اس دشت کی امید کو احرام بہار
- فرش اس دشت تمنا میں نہ ہوتا گر عدل
- دام سے اس کے قضا کو ہے رہائی دشوار
- شعلہ تحریر سے اس برق کی ہے کلک قضا
- گرد رہ اس کی بھریں شیشۂ ساعت میں اگر
- لیکن اس رشتۂ تحریر میں سر تا سر فکر
- دوست اس سلسلۂ ناز کے جوں سنبل و گل
- راز ہستی اس پر سر تا سر کھلا
- اس کے سرہنگوں کا جب دفتر کھلا
- اس سے گلہ مند ہوگیا ہے گویا
- کیوں کر مانوں کہ اس میں تلوارنہیں
- اس رشتے میں لاکھ تار ہوں بلکہ سوا
- سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو
- تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو
- کہو کہ خامس آل عبا کہیں اس کو
- کہو کہ رہبر راہ خدا کہیں اس کو
- اگر کہیں نہ خداوند کیا کہیں اس کو
- کہ شمع انجمن کبریا کہیں اس کو
- اگر نہ شافع روز جزا کہیں اس کو
- ستم ہے کشتۂ تیغ جفا کہیں اس کو
- شہید تشنہ لب کربلا کہیں اس کو
- کہ جن و انس و ملک سب بجا کہیں اس کو
- بقدر فہم ہے گر کیمیا کہیں اس کو
- کہ لوگ جوہر تیغ قضا کہیں اس کو
- اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اس کو
- ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد
- مگر نبی و علی مرحبا کہیں اس کو
- زمام ناقہ کف اس کے میں ہے کہ اہل یقیں
- پس از حسین علی پیشوا کہیں اس کو
- کہ طالبان خدا رہنما کہیں اس کو
- پیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اس کو
- علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اس کو
- برا نہ مانیے گر ہم برا کہیں اس کو
- کرے جو ان سے برائی بھلا کہیں اس کو
- رکھے امام سے جو بغض کیا کہیں اس کو
- غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اس کو
- نہ گل اس میں نہ شاخ و برگ نہ بار
- جب خزاں آئے تب ہو اس کی بہار
- جان دینے میں اس کو یکتا جان
- عدل سے اس کے ہے حمایت عہد
- سایہ اس کا ہما کا سایہ ہے
- اس خداوند بندہ پرور کو
- اس قدر بگڑا کے سر کھانے لگا
- بھول مت اس پر اڑاتے ہیں تجھے
- ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے
- کوئی اس کا جواب دو صاحب
- روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے
- تاریخ اس کی آج نویں ہے اگست کی
- کوئی اس کا جواب کیا لکھتا
- جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے
- گال پر جو تل ہو اس کو خال کہہ
- پھر غلیواز اس کو کہیے جو ہے چیل
- شمس سورج اور شعاع اس کی کرن
- خر گدھا اور اس کو کہتے ہیں الاغ
- جو برا ہے اس کو ہم کہتے ہیں زشت
- سی اگر کہیے تو ہندی اس کی تیس
- اس طرح ہنسلی کی پرگر فارسی
- اس کو آمد نامہ کچھ مشکل نہیں
- بیٹھ رہتا لے کے چشم پر نم اس کے رو برو
- کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو
- بات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو
- کہہ سکے ساری حقیقت ہم نہ اس کے رو برو
- اس بت مغرور کو کیا ہو کسی پر التفات
- اس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات
- کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر