از
123 Misre
- از بس کہ صرف قطرہ زنی تھا بسان اشک
- ہر طرح ہوں میں از خود رمیدہ
- کہ صبح عید مجھ کو بدتر از چاک گریباں ہے
- نہ باندھے شعلۂ جوالہ غیر از گرد باد آتش
- نہ ہو بالیدہ غیر از جنبش دامان باد آتش
- ہے تصور صافی قطع نظر از غیر یار
- بس کہ چشم از انتظار خوش خطاں بے نور ہے
- اے اسدؔ مایوس مت ہو از در شاہ نجف
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- بسان جوہر آئینہ از ویرانی دل ہا
- نہیں غیر از نگہ جوں نرگستاں فرش محفل ہا
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- قاتل بہ عزم ناز و دل از زخم در گداز
- زیر مشق شعر ہے نقش از پئے احضار باغ
- نقد انجم تابکے از کیسہ بیروں ریختن
- کچھ نہیں حاصل تعلق میں بغیر از کشمکش
- زندگانی نہیں بیش از نفس چند اسدؔ
- محتسب سے تنگ ہے از بس کہ کار مے کشاں
- قیس نے از بس کہ کی سیر گریباں نفس
- کفر ہے غیر از وفور شوق رہبر ڈھونڈھنا
- گرم تکلیف دل رنجیدہ ہے از بس کہ چرخ
- قرص کافوری ہے مہر از بہر سر ماخوردگاں
- دل بیمار از خود رفتہ تصویر نہالی ہے
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- اے دل از کف دادۂ غفلت پشیمانی عبث
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانے پیش از مرگ واویلا
- نہیں ہے سر نوشت عشق غیر از بے دماغی ہا
- بے دلوں سے ہے تپش جوں خواہش آب از سراب
- کھینچتا ہے آج نالے خارج از آہنگ دل
- کہ طوق قمری از ہر حلقۂ زنجیر ہے پیدا
- چمن بالیدنی ہا از رم نخچیر ہے پیدا
- بہار بے خزاں از آہ بے تاثیر ہے پیدا
- سحر از بہر شست و شوے داغ ماہ صابوں ہے
- چشم بے خون دل و دل تہی از جوش نگاہ
- کہ بعد از صاف مے ساغر میں دردبادہ آتا ہے
- محیط دہر میں بالیدن از ہستی گزشتن ہے
- بتان شوخ کی تمکین بعد از قتل کی حیرت
- رنگریز جسم و جاں نے از خمستان عدم
- اسدؔ از بس کہ فوج درد و غم سر گرم جولاں ہے
- حیرت سے ترے جلوے کی از بس کہ ہیں بے کار
- ہوں خاک نشیں از پئے ادراک قدم بوس
- نہیں ہے بازگشت سیل غیر از جانب دریا
- سر شک آگیں مژہ سے دست از جاں شستہ ابرو تھا
- کیا کس شوخ نے ناز از سر تمکیں تشستن کا
- نفس بعد از وصال دوست تاواں ہے گستن کا
- عیش ابد از خویش بروں تا ختنی ہے
- از بس کہ ہے محو بہ چمن تکیہ زدن ہا
- بیباک ہوں از بس کہ بہ بازار محبت
- پا پر از آبلہ راہ طلب مے میں ہوا
- چمن میں کچھ نہ چھوڑا تو نے غیر از بیضۂ قمری
- دکان ناوک تاثیر ہے از خود تہی ماندن
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- بہر از خود رفتگاں رنج خود آرائی عبث
- گل از شاخ دور افتادہ ہے نزدیک پژمردن
- شرار سنگ انداز چراغ از چشم جستن ہا
- دل از اضطراب آسودہ طاعت گاہ داغ آیا
- بہ رنگ شعلہ ہے مہر نماز از پا نشستن ہا
- از بسکہ تلخیٔ غم ہجراں چشیدہ ہوں
- خیر خواہ دید ہوں از بہر دفع چشم زخم
- رفتار نہیں بیشتر از لغزش پا ہیچ
- غیر از شکستہ حالی و حسرت کشیدگی
- اگر ابر سیہ مست از سوے کہسار ہو پیدا
- کہ غالب ہے کہ بعد از زاری بسیار ہو پیدا
- اسد کو گر از چشم کم دیکھتے ہیں
- غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو
- عرق از خط چکیدہ روغن مور
- شوخ ہے مثل حباب از خویش بیروں آمدن
- کہ کم از سرمہ اس کا مشت خاکستر نہیں ہوتا
- بہ از چاک گریباں گلستاں کا در نہیں ہوتا
- صفا کب جمع ہوسکتی ہے غیر از گوشہ گبری ہا
- ساقی نے از بہر گریباں چاکی موج بادۂ ناب
- بعد از وداع یار بخوں در تپیدہ ہیں
- ہے زمیں از بس کہ سنگیں جادہ بھی پیدا نہیں
- اشک بعد ضبط غیر از پنبۂ مینا نہیں
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- خانمان جبریان غافل از معنی خراب
- در آب آئنہ از جوش عکس گیسوے مشکیں
- نقاب یار ہے از پردہ ہاے چشم نابینا
- از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ
- اشک ہو جاتے ہیں خشک از گرمیٔ رفتار دوست
- دیکھتے ہیں چشم از خواب عدم نکشادہ سے
- صاف ہے از بسکہ عکس گل سے گلزار چمن
- جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانہ پیش از مرگ واویلا
- دل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی
- نہ دیکھیں روئے یک دل سرد غیر از شمع کافوری
- دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- بعد از وداع یار بہ خوں در تپیدہ ہیں
- غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- رنگریز جسم و جاں نے از خمستان عدم
- جادہ غیر از نگہ دیدۂ تصویر نہیں
- جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
- لطمۂ موج کم از سیلئ استاد نہیں
- گل بہ کوہ از لالہ بزم ساز بیتابی
- از سر نو زندگی ہو گر رہا ہو جائیے
- گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
- از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
- کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- از خود گزشتگی میں خموشی پہ حرف ہے
- گرچہ از روے ننگ بے ہنری
- رام پور ایک بڑا باغ ہے از روے مثال
- دل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی
- کس سے ممکن ہے تری مدح بغیر از واجب
- ہے ترے حوصلۂ فضل پر از بس کہ یقیں
- بچی نہ از پئے بند نقاب یار گرہ
- دعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض
- لمبر ملا نشیب میں از روے اہتمام
- طور مشعل بکف از جلوۂ تنزیہ بہار
- محروم صدا رہا بغیر از یک تار
- بعد از اتمام بزم عید اطفال
- پس از حسین علی پیشوا کہیں اس کو
- از دل ہر درد مندی جوش بیتابی زدن
- خدا سے میں بھی چاہوں از رہ مہر
- ناتوائی نے نہ چھوڑا بس کہ پیش از عکس جسم
- پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب