ادھر
12 Misre
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- جس طرف سے آئے ہیں آخر ادھر ہی جائیں گے
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
- آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا
- عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
- اے پرتو خورشید جہاں تاب ادھر بھی
- کچھ ادھر کا بھی اشارا چاہیے
- ادھر وہ بد گمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہے
- پر طبیعت ادھر نہیں آتی
- محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھ
- ادھر نہ ہوگی توجہ حضور کی جب تک