ادا
31 Misre
- گر ایک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- چشم تحیر آغوش مخمور ہر ادا ہے
- اے ادا فہماں صدا ہے تنگی فرصت سے خوں
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن یہ ہم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- ہے غیرت الفت کہ اسدؔ اس کی ادا پر
- آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی
- وحشت اگر رسا ہے بے حاصلی ادا ہے
- تیغ ادا نہیں ہے پابند بے نیامی
- ہوئی معزولی انداز و ادا میرے بعد
- خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
- حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
- دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
- غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
- تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
- گر اک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- لیکن یہ بیم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- بہ نیم غمزہ ادا کر حق ودیعت ناز
- بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
- روانیٔ روش و مستیٔ ادا کہیے
- دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
- نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
- عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا
- جو حد تقوی ادا نہ ہووے تو اپنا مذہب یہی ہے غالبؔ