اختیار
11 Misre
- سر نوشت خلق ہے طغراے عجز اختیار
- ہزار دل پہ ہم ایک اختیار رکھتے ہیں
- منت کشی میں حوصلہ بے اختیار ہے
- مجبوریاں تلک ہوے اے اختیار حیف
- ہوں دردمند جبر ہو یا اختیار ہو
- دیکھ اس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
- ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
- مجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار حیف
- جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
- بے اختیار دوڑے ہے گل در قفائے گل
- خواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیار