احوال
12 Misre
- اپنا احوال دل زار کہوں یا نہ کہوں
- اپنے دل ہی سے میں احوال گرفتاری دل
- آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔ
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- کرے ہے خامشی احوال بیخوداں پیدا
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- خوں ہے دل خاک میں احوال بتاں پر یعنی
- میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ
- منظور ہے گزارش احوال واقعی