ابھی
19 Misre
- آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
- رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
- میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
- ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی زلف مشکیں کی
- ابھی اس خستہ کے نیروے تن کی آزمائش ہے
- ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے
- پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
- عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ
- مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
- رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
- ابھی ہم قتل گہہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیں
- سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
- ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
- گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
- جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھی
- ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور
- ابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں
- ابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ
- شوق ابھی سے ہے تجھے اشعار کا